اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 6 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 6

خاندانی کوائف۔وطن اور ولادت حضرت با بو فقیر علی صاحب نے دفتر صدر قانون گوگورداسپور میں ملازم ہونے پر بقیہ حاشیہ: اختصار وغیرہ کیا ہے۔قلمی کا پیوں وغیرہ کی تاریخ تحریر کے متعلق تفصیل درج ذیل ہے: (۱): ایک کاپی پر ساڑھے دس صفحات میں کچھ حالات درج کئے ہیں اور اس کے آغاز میں لکھا ہے کہ ۱۳ مارچ ۱۹۴۹ء کو حالات قلمبند کرنے شروع کئے ہیں۔(۲): اوراق کی شکل میں سوا نو صفحات لکھے ہیں۔وہاں کوئی تاریخ آغاز یا اختتام درج نہیں۔البتہ ذیل کے امور سے تاریخ یا عرصہ تحریر کا اندازہ ہوتا ہے۔(۱): قادیان سے ہجرت کا ذکر ہے گویا ۱۹۴۷ء کی آخری سہ ماہی سے قبل نہیں لکھی گئی۔(ب): اہلیہ دوم کا ذکر ہے (۱۹۱۲ء) ( ج ) : مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو ” آنجہانی“ لکھا ہے۔(مولوی ثناء اللہ صاحب کی تاریخ وفات ۱۵ مارچ ۱۹۴۸ء بحوالہ سیرت ثانی ۲۹۹) (۳): ایک کاپی میں سوا سینتالیس صفحات پر حالات رقم کئے ہیں۔اس میں بھی کوئی تاریخ درج نہیں۔البتہ صفحہ ۴۱ پر حضرت ملک مولا بخش صاحب اور حضرت چوہدری اللہ بخش صاحب مالک اللہ بخش سٹیم پرلیس قادیان ہر دو کو مرحوم لکھا ہے۔( ہر دو کی تاریخ ہائے وفات علی الترتیب ۲۷ یا ۲۸ اکتوبر ۱۹۵۰ء ( بحوالہ اصحاب احمد جلد اوّل) اور ۶ اکتوبر ۱۹۵۷ء ( بحوالہ الفضل ۱۱ اکتوبر ۵۷ ) ہیں۔نیز صفحه ۴۶ پر مولوی عبد المنان صاحب (پسر حضرت خلیفہ اوّل) کے فتنہ کا ذکر ہے۔اور ان کا اخراج از جماعت اگست ۱۹۵۶ء کا ہے۔کاپی کے صفحات گیارہ بارہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولین زیارت کا حال درج کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں: آج زائد از پچاس سال کے بعد ان سطور کو لکھتے ہوئے ) سوہنی وجدانی کیفیت قلب میں پا رہا ہوں۔“ گویا صفحات گیارہ باره ۱۹۵۵ یا ۱۹۵۶ء یا قدرے اسکے بعد تحریر کئے گئے ہیں اور صفحہ ۴۱ تک پہنچتے پہنچتے اکتوبر ۱۹۵۷ء ہو چکا تھا۔