اصحاب احمد (جلد 3) — Page 61
۶۱ دل به یار و دست به کار آپ دل بہ یار و دست بہ کار پر عمل پیرا تھے۔ایم بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ جس زمانہ میں آپ امرتسر میں متعین تھے۔انگریز سٹیشن ماسٹر آپ کو بہت تنگ کرتا تھا۔اس زمانہ میں انگریزوں کا رُعب داب بھی بہت تھا۔وہ کہتا تھا۔مولوی صاحب ! کوئی حادثہ کروا دو گے۔ہر وقت نماز پڑھتے رہتے ہو۔آپ اس کی ایسی باتوں سے بہت تنگ پڑے۔ایک روز دروازہ اور کھڑ کی آپ نے بند کی اور اس کے قریب ہو کر بات کرنے لگے۔تو وہ گھبرا گیا۔مبادا آپ حملہ کر دیں۔آپنے اسے اطمینان دلایا کہ میرا ایسا ارادہ نہیں۔میں علیحدگی میں بات کرنا چاہتا ہوں۔جو یہ ہے کہ آپ دفتر میں قضائے حاجت پر وقت صرف کرتے ہیں۔اسی طرح چائے سگریٹ پینے پر بھی۔پھر مجھ پر معترض کیوں ہیں؟ کہنے لگا یہ امور تو مقتضائے طبیعت ہیں۔آپ نے کہا میں آپ کے ماتحت ہوں۔آپ کی فرمانبرداری کروں گا۔لیکن صرف الہی احکام جو فرض منصبی سے متعلق ہوں۔دیگر امور کے متعلق اطاعت مجھ پر فرض نہیں۔اس لئے نمازوں سے آپ کے کہنے پر میں رُک نہیں سکتا۔میری غفلت سے حادثہ رونما ہو یا ٹرین میں تاخیر ہو جائے تو بے شک آپ مجھ سے نرمی کا سلوک نہ کریں۔یہ کہہ کر آپ نے دروازہ اور کھڑ کی کھول دی۔وہ آپ کی گفتگو سے بہت حیران ہوا۔آپ کا طریق یہ تھا وقت ملنے پر لوٹا بھر لاتے پھر وضو کر لیتے پھر نماز ادا کر لیتے۔اللہ تعالیٰ مقلب القلوب ہے اور اپنے بندوں کا معین و مددگار ہے۔اس گفتگو کا۔اس پر ایسا اثر ہوا کہ آپ کے لوٹے کو ہاتھ ڈالتے ہی وہ کہتا۔مولوی صاحب ! آپ تسلی۔نماز پڑھیں۔میں آپ کے کام کا خیال رکھوں گا۔ایک دن آپ کا روکھا سوکھا کھانا دیکھ کر بھی اس پر بہت اثر ہوا کہ ان کا یہ حال ہے۔بقیه حاشیه صفحه ۲۶: (الفضل ۲۳/ ۲۱۸، ص۲، ک ۲۱۳۲۴۴۱، ص، ایک (۱) ۱۹۴۷ء میں حضرت مصلح موعود کی تحریک وقف جائیداد کے تحت قادیان کی جائیداد وقف کی اور قیمت کا ۱۰ را نقد ادا کیا۔ریٹائرڈ ہونے سے قبل پانچ سوروپیہ قرض لے کر ایران میں تبلیغ کے لئے اعزازی طور پر گئے کئی مہینے وہاں قیام کیا۔