اصحاب احمد (جلد 3) — Page 26
۲۶ حضرت صاحب کو بتایا تھا کہ حضور ! خاندان تو معمولی ہے لیکن لڑکی اچھی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا تھا (کہ) ہمیں خاندان کی مالی حالت اچھی ہونے کی ضرورت نہیں۔اگر لڑ کی اچھی ہے تو مولوی صاحب کے واسطے رشتہ کی کوشش کر لی جاوے۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب کی شادی گورداسپور ہوگئی۔لڑکی کا نام فاطمہ تھا۔“ حضور کا سانحہ ارتحال آپ لکھتے ہیں میری اہلیہ امید سے تھیں۔انہوں نے تھوڑے تھوڑے کر کے نو روپے جمع کئے تھے کہ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں بھجوا کر خیریت سے فراغت کی دُعا کے لئے عرض کریں گے۔حضوڑا لاہور تشریف لے گئے۔میں نے ان سے کہا حضور کے قادیان واپس تشریف لے جانے پر رقم ارسال کروں گا۔پھر لاہور سے بدر میں الرحیل ثم الرحیل ہے کا الہام پہنچا ہو تو میں نے گھر بتایا رقم تیار رکھیں۔الہام حضور کو ہو گیا ہے۔حضور اب قادیان واپس جائیں گے۔دوسرے روز اللہ دتا نام گارڈ سے (شیعہ) نے دوسرے اسٹنٹ کو کہا کہ اپنے مرزائی (یعنی بابو صاحب۔ناقل ) کو کہہ دیں کہ اس کا مرزا قادیان مرگیا ہے۔رات کے پہلے حصہ میں میری ڈیوٹی تھی۔اس وقت دوسرے اسٹنٹ کی ڈیوٹی تھی ۲۶۵۸ کو سٹیشن پر گیا تو اس نے اللہ دتا کا یہ پیغام دیا۔یہ دہشت ناک خبر سنتے ہی جسم لرز کر بے حسن ہوگیا اور مجھے خشی سی ہوگئی ہو ہیں۔میں نے یہ جوابی ارجنٹ ڈبل نار بدر نولکھا۔لاہور کو دی۔بابو صاحب کی مراد ۲۰ مئی والے الہام سے نہیں۔کیونکہ وہ پرچہ ۲ جون میں شائع ہوا۔بلکہ مئی والا الہام مُراد ہے جو بدر مورخہ ۲۶ مئی میں درج ہے گویا یہ پر چہ ۲۶ مئی کو آپ کو پہنچ چکا تھا۔: حضور کی وفات ۲۶ مئی کو دن چڑھے ہوئی اس لئے ۲۶ یا ۲۷ کی درمیانی شب ہی پہلی شب تھی۔جب گارڈ نے آپ کو اطلاع بھجوائی جو ۲۷ مئی کو ملی نہ کہ ۲۶ کی صبح کو جیسا کہ سہو ا بابو صاحب نے روایت میں درج کیا ہے۔*** بدر ۲۴ مئی و ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کھتری سماچار مشین پریس لاہور میں طبع ہوا۔۲۴ مئی کے پرچے میں مرقوم ہے کہ تا اطلاع ثانی دفتر اخبار بدر۔احمد یہ بلڈنگ۔نولکھا کے پتہ پر خط و کتابت کی جائے۔