اصحاب احمد (جلد 3) — Page 276
رضائے الہی کے لئے رضا کارانہ اور اعزازی اور بغیر کسی معاوضہ کے تھی۔اور یہ امر مال و منال سے بے رغبتی ، حوصلہ اور صبر اور قناعت اور ہمت اور فدائیت کا ایک شاہکار تھا۔اس عرصہ میں جنگ عظیم دوم کا زمانہ بھی آیا جس کے آخر میں حد درجہ کی مہنگائی کے سیلاب نے آلیا اور بعد ازاں تقسیم ملک کے باعث آپ کا بھی مال و متاع قادیان میں ضائع ہوا اور ازسر نو آبادکاری کا آپ کو سامان کرنا پڑا۔آپ کا گزارہ پنشن پر تھا ہے۔بعض خدمات کا ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے: (1) : ابتدا میں مرکز میں جو ذمہ داری آپ پر عائد ہوئی اس بارے میں ۱۹۳۳ء کی سالانہ رپورٹ میں مرقوم ہے: فی الحال فروری ۳۳اء سے حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے المسیح خاں صاحب با بو برکت علی صاحب شملوی پنشنر کو نائب ناظر کے عہدہ پر مقرر فرما کر دفاتر کی نگرانی ان کے سپرد فرمائی ہے۔ان کا کام سردست ابتدائی حالت میں ہے۔اور انہوں نے دفتری کاروبار کی اصلاح و ترقی کے متعلق ایک سکیم صدرانجمن احمدیہ میں پیش کر کے منظور کرالی ہے۔جس پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے ہو۔(۲): چندہ دہند افراد کے بجٹ آمد کی تشخیص ہر سال بذریعہ مقامی جماعت اور انسپکٹر ان نظارت بیت المال ہوتی تھی۔بعض افراد ناد ہند تھے اور بعض با شرح چندہ نہ دیتے تھے۔صدر انجمن احمد یہ پر بہت بھاری بار ہو گیا۔تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے میزانیہ صدر انجمن احمدیہ میں سوائے ایک دو سال کے ہر سال عملہ میں آپ کا نام درج ہو کر ہمیشہ ساتھ ہی یہ تحریر ہوتا تھا کہ آپ اعزازی کا رکن ہیں نیز ذیل کی سالانہ رپورٹوں میں بھی یہ امر مرقوم ہے کہ سات یا آٹھ ایسے احباب میں سے آپ ایک تھے جو اعزازی طور پر بلا معاوضہ سلسلہ کی خدمت بجالاتے تھے۔(سالانہ رپورٹ ۳۴ ۱۹۳۳ء ( ص ۲۵۹) ۳۵ - ۱۹۳۴ء (ص) (۱۵) ۳۷-۱۹۳۶ء (ص۳۰۳) رپورٹ ۳۳-۱۹۳۲ صفحہ ۱۸۲ یہ روئیداد آپ کے تقرر کے جلد بعد کی ہے۔چنانچہ الفضل میں مرقوم ہے خاں صاحب منشی برکت علی صاحب پنشن لینے کے بعد شملہ سے مستقل طور پر اب قادیان تشریف لے آئے ہیں۔اہل وعیال بھی ہمراہ ہیں۔۲۹