اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 275 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 275

۲۷۵ تخت نشین ہوئے تھے۔کسی احمدی کے حج پر جانے کو پسند نہیں کرتے۔چنانچہ اس بارہ میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی طرف سے خط و کتابت کے جواب میں شاہ موصوف محترم نے مطلع کیا کہ مجھے کسی کے بھی حج پر اعتراض نہیں۔البتہ تبلیغ کی کسی کو اجازت نہ ہوگی۔میں نے اس بارے میں حضور سے دریافت کیا کہ اگر کوئی شخص احمدیت کے متعلق ہم سے سوال کرے تو ہم کیا جواب دیں تو حضور نے فرمایا کہ اسے کہہ دیں کہ وہ افسرانِ متعلقہ سے اجازت حاصل کر لیں۔آپ دونوں بفضلہ تعالٰی ۱۸ فروری کو حج کے لئے روانہ ہوئے۔اور ۱۸ اپریل کو واپس آئے۔ہر دو مواقع پر دفا تر صدرانجمن احمد یہ اور مدارس میں تعطیل کی گئی اور بہت سے احباب الوداع واستقبال کے لئے ریلوے سٹیشن قادیان پر حاضر تھے۔مراکز سلسلہ میں خدمات سرکاری ملازمت پر ایک اعلیٰ عہدہ پر متمکن رہنے کے ساتھ ہی آپ کو جماعتی تنظیم وتربیت اور تبلیغ کا نہایت سرگرم اور فعال رنگ میں خدمت کا ایک تہائی صدی تک مفید اور کامیاب تجربہ حاصل ہوا تھا۔اور ایک ربع صدی سے آپ ممتاز احباب سلسلہ میں شمار ہوتے تھے۔بعد وظیفہ یابی (پنشن) قادیان میں اور بعد تقسیم برصغیر لاہور میں متعدد و اعلیٰ مناصب سلسلہ مثلاً نائب ناظر نظارت ہائے علیا و بیت المال، جوائنٹ ناظر و قائم مقام ناظر بیت المال اور قائم مقام ناظر ضیافت اور صدر مجلس کار پرداز بہشتی مقبرہ پر کامیابی کے ساتھ متمکن رہنا آپ کی حسن کارکردگی پر ایک تین دلیل ہے۔بعد ہجرت آپ کو لاہور میں بطور ناظر بیت المال ذمہ داری سونپی گئی۔۱۹۴۸ء میں آپ نے رخصت حاصل کی اور پھر بعض مجبوریوں کی وجہ سے باقاعدہ مزید خدمت کے لئے حاضر نہ ہو سکے۔البتہ کبھی کبھار پھر بھی کچھ خدمت کر پائے۔۱۹۳۲ء تا ۱۹۴۸ء آپ کی یہ سولہ سالہ خدمت محض حصول روانگی کا پروگرام ( الفضل ۱۵ فروری) الوداع کے وقت احباب کی شمولیت اور دعا ( ۲۰ فروری) اور دونوں کی مراجعت پر کثیر جماعت کا سٹیشن پر استقبال کرنا (۱۲۲ اپریل ) زیرہ مدینہ اسیح "