اصحاب احمد (جلد 3) — Page 265
۲۶۵ پہلا فضل تھا۔آپ کے وصال پر بعض لوگوں کو ابتلا آیا۔اور اس کے بعد حضرت خلیفہ اول کی وفات پر کئی ایک کو لغزش ہوئی۔اور اب حضرت خلیفہ ثانی کے وقت میں بعض واقعات ایسے پیش آئے جن سے بعض کمزور طبیعت لوگوں کے دلوں میں تزلزل پیدا ہوا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت کو بچالیا۔اگر غور کیا جائے تو پتہ لگتا ہے کہ ابتلاء صرف ان لوگوں کو پیش آتا ہے جو محض اپنے دماغ سے کام لینا چاہتے ہیں۔اور دل کی کیفیت کو مد نظر نہیں رکھتے۔واقعہ ایک ہی ہوتا ہے۔مگر سبب مختلف ہوتے ہیں۔جو لوگ ابتلاء میں پڑتے ہیں۔وہ عموماً وہ ہی ہوتے ہیں جن کے دل میں کدورت ہوتی ہے۔اور وہ بدظنی کر کے اس واقعہ کو ایسے اسباب پر مبنی سمجھ لیتے ہیں۔جو حقیقی نہیں ہوتے۔یا ابتلاء ان لوگوں کو آتا ہے جو اپنے دل و دماغ سے کام نہیں لیتے۔بلکہ دوسروں کے سہارے چلتے ہیں۔اگر وہ ذرا شبہات پیدا کریں تو ان کے دل بھی ڈانواں ڈول ہو جاتے ہیں۔اور ان کے ساتھ ہی یہ بھی پھسل جاتے ہیں۔اصل میں ایسے لوگ جو محض اپنے علم سے اور اپنے دماغ سے حقیقت کو پہنچنا چاہتے ہیں۔یا محض دوسروں کے سہارے چلتے ہیں۔وہ بنیادی اصول بھول جاتے ہیں۔صداقت کے نشان کا ذبوں کیساتھ شامل نہیں ہوتے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نبی ہونا ثابت ہو گیا۔تو پھر جو بھی بدی حضور کی طرف منسوب کی جائے گی وہ غلط ٹھہرے گی۔کیونکہ نبی معصوم ہوتا ہے۔اسی طرح گو خلیفہ معصوم نہیں ہوتا۔مگر جب اللہ تعالیٰ نے حضرت صدیق اکبر اور فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو خلیفہ بنایا۔اور انہوں نے نبوت کے کام کو جاری رکھا بلکہ نبوت کے ساتھ جو بعض پیشگوئیاں وابستہ تھیں وہ انہی کے ہاتھ سے پوری ہوئیں۔تو پھر شیعوں کے اعتراضات فضول ٹھہرے۔اسی طرح جب حضرت مسیح موعود علیہ