اصحاب احمد (جلد 3) — Page 246
۲۴۶ خرچ نہیں کر سکتے۔مگر اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی چیز حرام نہیں۔اس لئے فی سبیل اللہ مساکین ویتامی میں تقسیم کر دیں۔اپنے غریب رشتہ داروں میں دیدیں قادیان کے غرباء دیتا می کو دے دیں کسی قومی مدرسہ یا کالج میں بطور امداد دے دیں۔اسلام اس وقت غربت کی حالت میں ہے اس لئے یہ روپیہ اشاعت اسلام پر بھی خرچ ہو سکتا ہے۔میں نے پہلے ہی نیت کر لی تھی کہ حضور اجازت بخشیں گے۔تو یہ روپیہ میں اپنے مصرف میں لاؤں گا۔ورنہ نہیں۔چنانچہ میں نے وہ سب روپیہ ایک ایک سو۔دو دو سو کر کے غرباء میں تقسیم کر دیا۔کچھ روپیہ اپنے غریب رشتہ داروں کو دے دیا۔اور چار سو روپیہ حضرت خلیفہ اسیح اول اور تین سو روپیہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کو غرباء میں تقسیم کے لئے بھیج دیا۔اور اس طرح وہ تمام روپیہ حضور علیہ السلام کے فتویٰ کے مطابق تقسیم کر دیا ہے۔از مؤلف ) مومن اور غیر مومن میں یہی فرق ہوتا ہے۔مومن علم نہ ہونے کے با وجود ماحاک فی صدرک کو گناہ سمجھتا ہے۔اور فتویٰ کا طالب ہوتا ہے۔مبادا وہ لا علمی۔سہو یا عدم احتیاط کے باعث اکل حرام کا مرتکب ہو جائے۔لیکن آج کل کے ایمان کے مدعی اکل حرام کو شیر مادر کی طرح حلال اور جائز حق یقین کرتے ہیں۔اور ایک ایک جبہ کے حصول کے لئے مکر و حیل سے کام لیتے ہیں۔یہ بشاشت ایمان کی علامت ہے۔اور دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا عملی نمونہ ہے۔آج سے چھیاسٹھ سال قبل (۱۹۰۳ء میں ) ساڑھے سات ہزار یقیناً آج کے قریباً پون لاکھ کے برابر قیمت رکھتا تھا۔آپ نے بغیر فتویٰ لئے اپنے نفس پر خرچ نہ کرنا چاہا۔اور حقیقت مسئلہ معلوم ہونے پر خاں صاحب کے قلب صافی نے جو لازماً صبر و استقامت اور انقیاد و اطاعت سے بھر پور تھا۔حضور کے ارشاد پر فوراً لبیک کہا اور ارشاد کی روشنی میں بلا تذبذب چند ہی دن میں فی سبیل اللہ خرچ کر دیا۔(۲) مدرسہ تعلیم الاسلام اور کالج کے لئے آپنے چندہ دیا ہی ہو۔کتاب طبع اول میں آپ کا بیان (ص۳۳) اور بیان مندرجہ الفضل ۱۶ جون ۱۹۵۱ء ( صفحه ۵) (ملخص) ہ ہے: یوں اندراجات ہیں: از بابت فروری با بو برکت علی صاحب ( یعنی شملہ پرنٹنگ پریس ) ایک روپیہ (احکم ۳ مارچ ۱۹۰۱ء ص ۱۶