اصحاب احمد (جلد 3) — Page 19
۱۹ مہمان بھی موجود تھے۔مسجد مبارک میں حضرت مولوی نورالدین صاحب یا مولوی محمد احسن صاحب کی امامت میں تمام نمازیں ادا کیں۔ناسازی طبع کی وجہ سے حضور اس روز نمازوں میں تشریف نہیں لا سکے۔نہ ہی دوسرے روز نماز فجر میں۔میں مغموم حالت میں مہمان خانہ میں بیٹھا ہوا تھا۔کیونکہ ایام رخصت قریباً ختم تھے میں نے جھٹ پٹ واپس پہنچنا تھا۔میں حضور کی ملاقات کے لئے آیا تھا جو نہ ہوسکی تھی۔ایک مہمان نے مجھے مشورہ دیا کہ میں حضور کے خادم حضرت شیخ حامد علی صاحب کو گھر پر ملوں۔ممکن ہے وہ ملاقات کرا دیں۔چنانچہ میں نے شیخ صاحب سے ذکر کیا اور یہ بھی بتایا کہ میں نے آج ہی واپس جانا ہے۔انہوں نے کہا کہ سُورج نکل چکا ہے۔حضور مع حضرت ام المؤمنین وخواتین سیر کو نکلے ہوئے ہیں آئے میں آپ کی ملاقات کرا دیتا ہوں۔اور مجھے ساتھ لے کر ڈھاب میں سے گذر کر مقبرہ بہشتی کی طرف باغ میں کنوئیں کے پاس لے گئے جو حضرت اماں جان کا کنواں کہلاتا تھا۔کچی ٹنڈوں والا (اور لکڑی کا ) رہٹ چل رہا تھا۔* اور اس کی چیں چیں کی آواز آرہی تھی۔حضرت صاحب ایک دو مستورات اور بچوں سمیت مقبرہ بہشتی کے جنوبی کنارے پر کھولوں کے پودوں میں کھڑے تھے۔شیخ صاحب نے کنوئیں کی پختہ منڈیر پر ایک پختہ اینٹ کھٹکھٹائی اس کی آواز سے حضرت صاحب ہماری طرف متوجہ ہوئے۔اور حضور نے سمجھ لیا کہ کوئی مہمان شیخ صاحب کے ساتھ کھڑا ہے جو مجھے ملنا چاہتا ہے۔سو حضور خراماں خراماں ہماری طرف تشریف لے آئے۔حضور نے اس وقت رُومی سُرخ ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔اور ہاتھ میں عصا تھا۔میں ریلوے کی وردی میں ملبوس تھا۔میں نے حضور سے مصافحہ کیا اور عرض کیا حضرت اقدس نے الوصیتہ بابت قیام بہشتی مقبرہ تالیف فرمائی۔جس کی تاریخ تالیف ۲۰ دسمبر ۱۹۰۵ء اور ضمیمہ کی ۶ جنوری ۱۹۰۶ ء ہے۔کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ اس قبرستان سے شمالی طرف بہت پانی ٹھہرا رہتا ہے جو گذرگاہ ہے اس لئے وہاں ایک پل تیار کیا جائے گا۔(بیان شرط اول ) یہ روایت قیام بہشتی مقبرہ اور تعمیر پل سے قبل کے عرصہ سے متعلق ہے جس کا علم ڈھاب میں سے گذر کر سے ہوتا ہے۔بابو صاحب نے جو بہشتی مقبرہ کی طرف ذکر کیا ہے وہ اسلئے کہ بیان روایت کے وقت بہشتی مقبرہ قائم تھا۔