اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 17 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 17

۱۷ علی احمد صاحب وکیل کی باغ والی کوٹھی میں حضور نے قیام فرمایا تھا۔میں نے خود دیکھا تھا۔قبول احمدیت آپ ۱۹۰۵ء میں بلوچستان کے پہلے سٹیشن جھٹ پٹ پر اسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر متعین ہوئے۔اس زمانہ میں پٹ سیکشن کا یہ پہلا اسٹیشن اُجاڑ بیابان تھا۔چھپیں تھیں میل اردگرد تک آبادی۔پانی اور گھاس تک نہ تھا۔ستی سٹیشن تک صرف ریلوے سٹیشنوں پر پانی دستیاب ہوتا تھا۔جہاں ریلوے ٹینک میں یا تالاب میں پانی ذخیرہ رکھا جاتا تھا۔منشی عبد الغنی صاحب او جلوی نے وہاں آپ کو حضرت مسیح موعود کا اشتہار الانذار بھجوایا۔سے آپ کو حضور کی کوئی کتاب یا مضمون بھی ملا۔ان کے مطالعہ سے آپ کا دل حضور کی صداقت کا قائل ہوتا۔لیکن علماء ومخالفین کے اعتراضات کے مطالعہ سے آپ کے دل میں اضطراب پیدا ہوا کہ صداقت کدھر ہے۔آپ سنسان مقامات میں جاکر دعائیں کرتے کہ اے اللہ ! تو میری رہنمائی فرما! اگر مرزا صاحب تیری طرف سے ہیں اور میں ان کو قبول کئے بغیر مر گیا تو کیا بنے گا۔اور اگر بیعت کرلوں اور یہ امر نا درست ہو تو کیا ہوگا۔اس زمانہ میں خصوصا سندھ کے مسلمانوں میں بے حد بے علمی تھی۔سٹھا رجہ سٹیشن کے قریب کا واقعہ آپ لکھتے ہیں کہ میری بکری پر رہی تھی اس کی وجہ سے مال گاڑی روکنی پڑی۔ڈرائیور سخت غصہ میں تھا اور اس نے کہا کہ پھاٹک والا جھوٹ کہتا ہے کہ یہاں ایک بابومسلمان ہے اور یہ اس کی بکری آپ یہ بھی بتاتے ہیں کہ آپ کو احمدیت سے قبل الحکم و بدر سے الفت تھی گویا آپ کو اس وقت ان کا مطالعہ کرنیکا موقعہ ملا۔لیکن کاپیوں کے حالات میں ان کا مطالعہ کا ذکر نہ ہونے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھار ان کا مطالعہ ہوا ہوگا۔اس علاقہ میں پڑھا لکھا مسلمان نیز کوئی احمدی قریب میں نہ تھا اسلیئے آپ کے علاقہ میں یہ اخبارات کسی اور سے برائے مطالعہ میسر آنے بظاہر ناممکن معلوم ہوتے ہیں۔آپ لکھتے ہیں: ”خاکسار کو الحکم اور بدر کے ساتھ قدیم سے الفت ہے جبکہ میں احمدی نہ تھا ( بدر ۲۶ جولائی ۱۹۰۷ ء ص ۵ کالم ۳) اور تحریک کرتے ہیں کہ اخبارات سلسلہ میں دنیوی اخبار بھی درج کی جائیں کیونکہ جہاں دور دراز علاقوں میں تعلیم یافتہ آدمی ملنا بھی مشکل ہے ہم دنیا سے کس طرح باخبر رہ سکتے ہیں ( مراد البدر ہوگی ) البدر اس وقت ابھی بدر میں تبدیل نہیں ہو ا تھا۔