اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 167 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 167

۱۶۷ پوچھا کہ آپ میرے پاس کیوں نہیں بیٹھتے۔دیکھو میرے پاس مہمان آتے رہتے ہیں خوب کھاتے پیتے ہیں۔آپ کبھی نھیں آتے۔میں نے عرض کیا کہ جن چیزوں کی آپ کے پاس افراط ہے۔میں ان اشیاء کا نہ شائق ہوں نہ طلب گار مجھے تو ایسے لوگوں کے پاس بیٹھنے کی خواہش ہوتی ہے جو خدا کی باتیں کریں اور سنیں۔اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہنے لگے کہ مجھے تو آپ جیسے لوگ پسند ہیں۔میں انھیں ایک ٹیلے پر لے گیا۔وہاں انہوں نے دل کھول کر باتیں کیں۔اور کہا کہ یہ دنیا دار تو میرے پاس کھانے کے لئے آتے ہیں۔حقیقت میں نہ ان کو میرے ساتھ محبت ہے نہ مجھے ان کی خواہش۔سوشکر ہے کہ تم مل گے۔میں نے اسے کہا کہ ہمارے سلسلے میں ایک نوجوان ایسا ہے جس کا تعلق خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔پوچھنے لگا وہ کون ہے؟ میں نے کہا کہ مرزا محمود احمد صاحب آف قادیان۔اس پر اس نے ملنے کی بڑی خواہش ظاہر کی۔اس خواہش صادق کو خدا تعالیٰ نے اس طرح پورا کر دیا کہ جب میں ملازمت چھوڑنے کے بعد قادیان گیا تو دیکھا کہ ایک یکہ مسجد مبارک کی سیڑھیوں کے پاس کھڑا ہے۔پوچھنے پر معلوم ہوا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی (جوان دنوں میاں صاحب کہلا تے تھے ( ڈلہوزی تشریف لے جا رہے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد آپ تشریف لائے پوچھنے پر فرمانے لگے ڈلہوزی جا رہا ہوں۔میں نے عرض کیا کہ وہاں کا کوتوال عبد الغفار خاں آپ سے ملنے کا بے حد مشتاق ہے۔جب یکہ روانہ ہو گیا تو میں نے اسی وقت ایک لفافہ لکھ کر کوتوال صاحب موصوف کو اطلاع دی کہ اس ڈاک کے ساتھ وہ نوجوان صالح جن کا ذکر میں نے کیا تھا۔اور جن کا اسم گرامی مرزا محمود احمد صاحب آف قادیان ہے ڈلہوزی آ رہے ہیں آپ ان سے ملیں۔بعد کے واقعات کا علم مجھے خود حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے ہوا۔حضور نے فرمایا کہ میرا لفافہ ملنے پر کوتوال نے اپنے آدمی بھیجے کہ آپ کی جائے