اصحاب احمد (جلد 3) — Page 166
۱۶۶ کو دفتر کی طرف سے لاہور سے ڈلہوزی جانے کا آرڈر ملا۔آپ لکھتے ہیں کہ میرے ہمراہ میری بیوی۔اس کا بھائی اکبر علی اور میرے بھائی امیراحمد سفر کر رہے تھے ایک ٹانگے میں ہم تھے اور تین ٹانگوں میں ہند و کلرکوں کے اہل وعیال تھے جب دنیرہ پڑاؤ پر پہنچے تو شام ہوگئی۔وہاں کے ہندو کلرکوں نے اپنے ہندو بھائیوں کو اپنے خیموں میں جگہ دے دی اور میں کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔ہر چند مکان یا ٹینٹ کی تلاش کی مگر کچھ نہ ملا۔اکبر علی نے گھبرا کر کہا رات سر پر آگئی ہے اب کیا ہو گا میں نے کہا۔ع خدا داری چه غم داری خدا تعالی ضرور کوئی سامان کر دے گا۔اتنے میں ایک گھوڑ سوار آیا اور اس نے مجھے محبت سے سلام کیا۔اور پوچھا آپ یہاں کہاں؟ میں نے قصہ سنایا تو وہ کہنے لگا کہ میں ابھی آتا ہوں تھوڑی دیر میں وہ چند سپاہیوں کے ساتھ ایک ٹینٹ لایا اور خیمہ لگوا کر اس میں گھاس بچھوا دیا اور پانی وغیرہ رکھوا کر چلا گیا اور رات کے قریباً گیارہ بجے دال روٹی اور زردہ لے کر آیا اور معذرت کر نے لگا کہ دیر ہو گئی تھی اس لئے گوشت نہیں مل سکا۔پھر میرے پوچھنے پر کہا آپ مجھے نہیں جانتے ؟ آپ نے ہی تو میری درخواست لکھی تھی جس پر مجھے دفعداری مل گئی تھی۔پھر وہ چند آدمی پیچھے چھوڑ گیا کہ رات کو پہرہ دیں اور صبح کو خیمہ سنبھال لیں۔آپ کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور دیگر افراد خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے غیر معمولی محبت و عقیدت تھی۔مندرجہ ذیل دو واقعات سے اس تعلق پر روشنی پڑتی ہے۔ڈلہوزی پہنچ کر میں ایسے محلہ میں اترا جہاں کوئی احمدی نہ تھا۔کوتوال عبدالغفار صاحب کا مکان راستے میں پڑتا تھا۔ان کے مکان پر بڑے بڑے لوگ اترا کر تے تھے۔میں آتے جاتے ہوئے کو توال صاحب کو سلام کر کے گزر جاتا مگر ان کے پاس نہ بیٹھتا۔ایک روز انہوں نے مجھے