اصحاب احمد (جلد 3) — Page 140
۱۴۰ جب وہ واپس ولایت جانے لگی تو میں نے اسلامی اصول کی فلاسفی، (انگریزی) تحفہ پیش کی اور شاید کوئی اور کتاب بھی۔اور اُن کا بہت بہت شکریہ ادا کیا کہ آپ نے میری بڑی امداد فرمائی اور میری درخواستوں پر مریضوں پر رحم کیا۔اس نے شکریہ کے ساتھ لٹریچر قبول کیا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کچھ حضرت صاحب کی دعاؤں کی برکت تھی۔ع وگرنه من آنم کہ من دانم غالباً ۱۹۳۲ء کے آخر میں لاہور سے ڈیرہ اسماعیل خان میرا تبادلہ ہوا۔اور ۱۹۳۳ء کی گرمیوں میں رزمک جانا پڑا۔ان دنوں محمد صادق صاحب ایم ای ایس میں سٹور کیپر تھے۔میں اپنی فرصت کے اوقات ان کے پاس گزارا کرتا۔ان کی طبیعت بہت نرم تھی۔اور یہ سلسلہ کی گفتگو میں ذوق اور شوق کا اظہار کیا کرتے تھے۔ان کے ذریعہ بعض اوقات تبلیغ بھی ہو جاتی تھی۔علاوہ ازیں وہاں فیروز دین صاحب فورمین اور نصر اللہ خاں صاحب الیکٹریشن تھے۔یہ سب دوست سلسلہ کے فدائی تھے اور بڑی محبت سے پیش آیا کرتے تھے۔یہ زمانہ میرے لئے پریشانی کا تھا۔اور میری توجہ دعاؤں کی طرف تھی۔ہم ایک خیمہ میں سات آٹھ کلرک رہتے تھے۔ان میں سے ایک ہندو کلرک مجھے بار بار نماز پڑھتے دیکھتا تو متاثر ہو کر بے اختیار ہو کر کہتا کہ یہ شخص تو دنیا سے منہ پھیر کر عبادت میں ہی مصروف رہتا ہے۔کاش ہم ہند و کلرک بھی ایسے ہی ہوتے۔اس زمانہ میں لیفٹیننٹ نذیر احمد بھی وہاں تھے اور وہ نئے نئے لیفٹیننٹ ہو کر گورا فوج میں کمانڈر دستہ مقرر ہوئے تھے۔اور ہر فرصت کے موقعہ پر ورزش جسمانی ہی کرتے رہتے تھے۔مجھ سے بہت محبت رکھتے تھے۔اور چاہتے تھے کہ میں اُن کی سفارش خاں بہادر محمد دلاور خانصاحب کے پاس کروں تا کہ انہیں وہ اپنے محکمہ میں لے لیں۔خان بہادر صاحب اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ بھی انہی دنوں رزمک میں تھے۔یہ بالکل پیغامی خیال کے تھے۔میری ان کے ساتھ اکثر بحث ہوتی رہتی تھی مگر میں نے دیکھا کہ وہ دل کے بہت نرم اور حد درجہ کے شریف طبع تھے۔حضرت خلیفہ ثانی کے ذکر پر باتیں تو کرتے رہتے تھے مگر۔