اصحاب احمد (جلد 3) — Page 139
۱۳۹ دی۔یہ اتنی بارعب لیڈی ڈاکٹر تھی کہ کسی کو شفا خانہ کے احاطہ کے اندر آنے کی اجازت نہ دیتی تھی۔مگر بخلاف عادت میرے لئے شفاء خانہ کے ملازموں کو حکم دیا کہ ان کو ہر وقت اندر آنے کی اجازت ہے۔بلکہ میرے بچوں کو صوفہ وغیرہ پر کھیلنے سے منع نہ کرتیں۔خوشی سے دیکھتی رہتیں۔میری بیوی کا علاج ہر طرح مہربانی اور محبت سے کیا۔بلکہ اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ انہی دنوں میں بعض احمدی بھائیوں کو لیڈی موصوفہ کے پاس لے جاتا تو بڑی توجہ کرتیں۔فیس نہ لیتیں۔ہر طرح امداد کرتیں۔حالانکہ دوسروں پر اس کی سختی کا یہ عالم تھا کہ لوگ احاطہ شفاخانہ سے باہر کھڑے رہتے۔دس روپے اس کی فیس اس کو بھیج دیتے۔بڑی دیر کے بعد وہ اپنے اردلی کے ذریعہ مریض کو بلواتی۔بلکہ میں دو چار بار کسی مریضہ کے ساتھ گیا۔تو موصوفہ نے کہا کہ آپ خود نہ آیا کریں۔خود آنے میں تکلیف ہوتی ہے۔اپنا رقعہ مریضہ کو دے دیا کریں۔میں آپ کے مریض کو دیکھ لیا کروں گی۔اور حقیقت موصوفہ نے ایسا ہی کیا۔ایک شام جب میں گھر کو آنے لگا۔جو احمد یہ مسجد بیرون دہلی دروازہ کے قریب تھا تو معلوم ہوا کہ مولوی تاج دین صاحب (سابق ناظم دارالقضاء ربوہ) اپنی اہلیہ کو جو سخت بیمار ہیں لائے ہوئے ہیں۔پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک چارپائی پر مریضہ کو لٹا کر اسی ہسپتال میں لے گئے۔مریضہ کی حالت سخت نازک تھی۔اتوار کے روز لیڈی ڈاکٹر ہسپتال نہ آتی تھی۔اس کی نائب انگریز لیڈی ڈاکٹر نے کہا کہ اتوار کو ہم کسی مریض کو داخل نہیں کرتے۔مگر آپ کا لحاظ ہے۔ہم اس مریضہ کو داخل تو نہیں کرتے مگر رات اس کی دیکھ بھال کریں گے۔کل لیڈی ڈاکٹر صاحبہ آئیں گی۔رات بھر مولوی صاحب اور دیگر احباب فکر مند رہے۔مگر دوسری صبح لیڈی ڈاکٹر نے میرا نام سن کر مریضہ کو داخل کر لیا۔اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل و احسان سے صحت یاب ہو گئیں۔اللہ تعالیٰ ایک روز حضرت قریشی محمد حسین صاحب امیر جماعت لاہور موجد مفرح عنبری نے مجھے کہا سنا ہے کہ یہ لیڈی ڈاکٹر آپ کی سفارش پر بہت توجہ کرتی ہے۔میری بہو بیمار ہے۔سو میں نے سفارش کرتے ہوئے لکھا کہ مریضہ امیر عورت ہے۔اس سے فیس لے لیں۔جس پر اس نے ایسا ہی کیا اور مریضہ کا علاج کیا۔