اصحاب احمد (جلد 3) — Page 133
۱۳۳ سے پٹھان مولوی جمع ہیں اور آپ کو بحث کے لئے بلا رہے ہیں۔ہم پہنچے تو دیکھا کہ ایک بڑی ڈیوڑھی میں بڑی بڑی چارپائیوں پر بڑے بڑے پٹھان مولوی بیٹھے ہیں۔ان مولوی صاحب نے جو میانہ قد شکیل اور شریف نظر آتے تھے۔مجھے اپنے پاس جگہ دی۔اور رسمی گفتگو کے بعد پوچھا کہ ہم لوگ کیا کہتے ہیں۔میں نے کہا کہ مرزا صاحب نے ہمیں بتلایا ہے کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے ہیں۔کہنے لگا کوئی دلیل؟ میں نے غالباً یہ آیت فلمّا تو فیتنی پڑھ کر اس کی تفسیر بیان کی۔فرمایا اور دلیل؟ میں نے ایک اور آیت پڑھ دی۔پھر کہا کوئی اور میں نے ایک اور آیت پڑھ کر تغییر شروع کر دی۔اللہ تعالیٰ نے مجھے خوب تبلیغ کر نیکی تو فیق بخشی جس پر میں بھی اور میرے ساتھی بھی متعجب تھے۔جب رات بہت گذر گئی تو میں نے کہا کہ میں ایک عقلی دلیل دیتا ہوں۔کہ اگر یہ کہا جائے کہ جب تک پہلا جرنیل جو ابھی تبدیل ہوا ہے نہ بُلایا جائے۔اس علاقہ کا انتظام نہیں ہوسکتا۔اور سب کام خراب ہو جائے گا تو کیا موجودہ جرنیل کی کوئی عزت باقی رہے گی ؟ خدا جانے کس طرح مولوی صاحب کے منہ سے نکل گیا۔نہ سہی۔نہ رہے۔اس پر لوگوں نے مجھے کہا کہ اب آپ جائیں اور وہ پٹھان سخت شرمندگی محسوس کرنے لگے کہ مولوی صاحب نے یہ کیا کہہ دیا ہے۔میں اور میرے ساتھی وہاں سے چلے آئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ تبلیغ کی توفیق ملی۔حالانکہ موقعہ بڑا خطرناک تھا۔یہ لوگ ہمیں مار بھی ڈالتے تو کوئی گواہ نہ ملتا اور نہ مقدمہ ہو سکتا۔(4): بنوں میں جب ہر طرف یہ شور اُٹھا کہ مرزائی یہاں تبلیغ کر رہے ہیں تو میں نے حضرت کے حضور عریضہ لکھا کہ حضرت حافظ روشن علی صاحب اور کسی اور مبلغ کو بھجوائیں۔حضور نے درخواست کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے حضرت حافظ صاحب اور حضرت میر محمد اسحق صاحب کو بنوں بھجوا دیا۔دونوں بزرگوں نے خوب تبلیغ کی اور سارے علاقہ میں شور پڑ گیا۔غرض اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھ سے یہ کام کرایا۔جب کہ اس زمانہ میں صوبہ سرحد میں تبلیغ احمدیت کرنا بڑا مشکل کام تھا۔فالحمد الله علیٰ احسانہ جو طلب میں نے کیا اپنی عنایت سے دیا تیرے قربان میرے ناز اٹھا نے والے (۷): بنوں میں غالباً اواخر ۱۹۱۶ء میں ایک روز میں اپنے ساتھی کلرک بابو ہری