اصحاب احمد (جلد 3) — Page 132
۱۳۲ ابتدا میں بحیثیت دفتری راولپنڈی میں آئے تھے۔پھر اپنی نیکی محنت ، لیاقت اور شرافت کی وجہ سے دفعدار بن گئے۔رسائیدار ہو جاتے مگر ملازمت کا زمانہ ختم ہو گیا۔میں اُن کے احسانات کا بہت شکر گزار ہوں۔انہوں نے حق دوستی خوب ہی نبھایا۔آپ بڑے معزز خاندان برلاس سے تھے۔اور بہت منکسر المزاج۔اللہ تعالیٰ اُن پر اور ان کی اولاد پر بڑے افضال وانوار کی بارش برسائے۔آمین۔جو انعامات اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کئے ان میں سے ایک دفعدار صاحب کی محبت اور دوستی بھی تھی۔یہ شخص میرے لئے مجسم الحب اللہ تھا۔میاں عبداللہ صاحب درزی جن کو اللہ تعالیٰ نے نوازا اور بہشتی مقبرہ میں جگہ دی۔ہم تینوں دوست تھے۔ہم اکثر اکٹھے ہوتے اور حضرت خلیفہ ثانی کے مبارک کاموں کا ذکر کر کے لطف اُٹھاتے۔انہوں نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چھڑی دی تھی۔جس کا دستہ ابھی تک بطور تبرک میرے پاس محفوظ ہے۔فجزاہ اللہ خیراً۔(۴) : بنوں میں ہم دفتر جاتے ہوئے اپنے ساتھ سلسلہ کے ٹریکٹ لے جاتے اور انگریز۔پٹھانوں۔مسلمانوں اور ہندوؤں میں تقسیم کرتے تھے۔وہاں عبدالہادی صاحب اور شیخ اللہ بخش دو غیر مبائع صاحبان تھے۔کئی دن رات ان سے بحث ہوتی رہی۔ایک شب میرے مکان پر ان سے بحث ہو رہی تھی کہ نماز عشاء کا وقت ہو گیا۔میں امام تھا اور یہ دونوں مقتدی۔میں نے دعا کی کہ الہی ! ان دونوں میں سے ایک دے دے۔قدرت الہی کہ شیخ صاحب نے بیعت کر لی۔اور عبدالہادی صاحب غیر مبایعین کے بڑے بھاری رُکن بن گئے۔سُنا تھا کہ بعد میں کسی نے ان کو قتل کر دیا تھا۔(۵) لکی مروت کے ایک شریف الطبع مولوی بتوں تشریف لائے۔کسی نے ان کے پاس شکایت کی کہ یہاں ایک مرزائی بابو آیا ہوا ہے جس کی وجہ سے بعض لوگ احمدی ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کو میرے پاس لاؤ میں اس سے بات کروں گا۔میں نے سُنا تھا کہ یہ مولوی صاحب حضرت سید عبداللطیف صاحب شہید کے خاص دوستوں میں سے تھے اور جب وہ آپ کے وطن خوست گئے تھے تو حضرت مروح نے ان کو چار صد روپیہ کی قیمت کا گھوڑا بطور تحفہ دیا تھا۔مکرم عبدالکریم صاحب سیکرٹری تبلیغ جو ان دنوں ہماری کور میں ملازم تھے۔رات کے دس بجے کے بعد مجھے بیدار کر کے یہ بتا کر لے گئے کہ فلاں مکان میں