اصحاب احمد (جلد 3) — Page 124
۱۲۴ رہا۔اور جواب مجھے ملتے رہے۔چنانچہ بقلم مفتی فضل الرحمن صاحب ایک عریضہ کے جواب میں تحریر فرمایا: اگر قرضہ ادا کرنے کی سچی نیت ہو اور اس فکر میں آدمی لگا ر ہے اور جس قدر ممکن ہو اس کو ادا کرتا رہے۔تو خدا تعالیٰ ضرور سامان مہیا کر دیتا ہے کہ وہ ادا ہو جائے۔توبہ استغفار اور لاحول کی کثرت کیا کریں۔نمازوں میں عجز اور زاری سے دعائیں مانگا کریں۔“ ایک خط کا یہ جواب ملا : والسلام قادیان ۳ مئی ۱۹۰۷ء " آپ قرضہ کیلئے تو بہ، استغفار ، لاحول سے کام لیں اور ا دا ( کرنے ہیں) کا ارادہ کر لیں جب تک خود دس ۱۰ بارہ ۱۲ روز یہاں آپ نہ رہیں دعا کا منگوانا مشکل ہے۔“ اگست ۱۹۰۷ء ایک دفعہ اسی قرضہ کے بارے میں اپنی گھبراہٹ کا ذکر ایک خط میں کر کے دُعا کی درخواست کی تو جوا با تحریر فرمایا : السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ " آپ استغفار کریں جس کے معنی ہیں۔الہی ! میں نے غفلت کی اس کے بدنتائج سے مجھے محفوظ رکھ اور غفلت سے بچا۔اسْتَغْفِرُ الله اور لَا حَولَ جس کے معنی ہیں۔الہی ! تیرے فضل وکرم کے سوا کچھ نہیں بن سکتا۔تو بدی سے پھیر اور نیک بنا۔لَا حَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا باللہ اور الحمد شریف بلحاظ معنی اور درود بایں خیال کہ الہی ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے بڑے دُکھ درد اٹھائے اور بڑی محنت سے ہم تک تیرا دین پہنچایا الہی! اس کے بدلہ ہماری طرف سے اس پاک انسان خطوط وحدانی کا لفظ از مؤلّف۔