اصحاب احمد (جلد 3) — Page 121
۱۲۱ واپسی کے لئے دیا۔میں خوشی خوشی شملہ چلا گیا۔ٹوٹی کنڈی کوٹھی حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے کرایہ پر لی ہوئی تھی اور اسی کے ایک حصہ میں حضور قیام فرما تھے۔میں حضور کے پاس جا ٹھہرا۔ان دنوں مکرم معظم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب اور حضرت مرزا عزیز احمد صاحب ایم اے بھی وہاں تھے۔ایک ماہ کے قریب میرا وہاں قیام رہا۔واپسی پر میں نے حضرت کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر اجازت ہو تو واپسی پر بٹالہ کے سٹیشن پر حضور کے قافلہ کے لئے کھانا میں لاؤں گا۔فرمایا کہ کھانا گھر سے سٹیشن پر کس طرح لاؤ گے۔میں نے نا کبھی اور اخلاص میں کہا کہ میں لے آؤں گا۔آپ نے منظور فرمالیا۔میں دو تین روز پہلے چلا آیا۔اور حضور کے قافلہ کے لئے جن میں حضرت ام المومنین اور حضور کے حرم بھی تھے۔کھانا تیار کروایا۔جب اُسے سٹیشن پر لے جانے لگے تو بڑی دقت پیش آئی۔شور بے کا بڑا پتیلا چھلکنے لگا۔فرنی رگر گر پڑتی۔ویسا ہی باقی اشیاء کا حال تھا۔غرض بڑی مشکل سے بڑی دیر میں سٹیشن پر پہنچا تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مجھے ملتے ہی کہا کہ حضرت صاحب ناراض ہیں۔آپ نے کھانا لانے میں بہت دیر کر دی۔میں نے حضور کے پیش ہوتے ہی کہا۔ع از خوردان خطا و زبزرگان عطا آپ خاموش ہو گئے اور فرمایا۔اچھا ہمارے فلاں مہمان کو جو ریل میں جارہے ہیں کھانا جلدی دو۔گاڑی چھوٹنے والی ہے۔میں نے اسے بھی کھانا دیا اور حضور کو اور قافلہ کو بھی کھانا پیش کیا۔جو سب نے کھایا۔میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔تو (۱۶): میرے ایک داماد نے خلافت ثانیہ کے خلاف فتنہ انگیزی کرنے والوں کے ساتھ شرکت کی۔میں نے اس کے ساتھ بیزاری کا اظہار کیا۔حضور نے خوشی کا اظہار فرمایا اور میرا یہ جواب الفضل میں شائع کروایا۔۔(۱۷) : قالبا ۱۹۲۱ء میں کشمیر سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی واپس تشریف لائے تو حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے جو ساتھ تھے۔قافلہ کو ریل گاڑی پر سوار کرانے وغیرہ ضروری امور انجام دینے کا ارشاد فرمایا۔راولپنڈی سٹیشن کے بعض کلرکوں کی شرارت سے تکلیف پہنچی۔مگر قافلہ بخیریت روانہ ہو گیا۔البتہ ریلوے سٹاف نے لاہور تا ردی کہ قافلہ کے سامان کی پڑتال کی جائے۔اس لئے لاہور میں اتروا کر تلوایا گیا۔لیکن غفلت سے حضور کا