اصحاب احمد (جلد 3) — Page 110
11۔کانپور کی مسجد کا قضیہ شروع ہوا۔حضرت خلیفہ ثانی نے مجھے ان دنوں کئی خطوط لکھے جس میں سے ایک یہ ہے: مکرم منشی صاحب! السلام علیکم اس اخبار (الفضل ) میں جو لیڈر درج ہے اسے غور سے پڑھیں اور لوگوں کو سناد میں خواہ کوئی سنے یا نہ سُنے۔یہ مضمون اصل میں حضرت خلیفہ اسیح کا لکھوایا ہوا ہے۔مگر آپ نے فرمایا اپنی طرف سے لکھو اس میں کچھ حکمت ہے اور فرمایا خوب زور سے لکھو۔ڈرنا نہیں۔مخالفت ہوگی مگر حق کی مخالفت ہوا ہی کرتی ہے۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد “ ہے مولوی محمد علی صاحب ان دنوں بڑے جوش میں تھے اور کسی کی نہیں سنتے تھے۔اور پیغام صلح میں کانپور کے متعلق حضرت خلیفہ ثانی کے مضامین کے خلاف لکھا کرتے تھے۔جیسا کہ اس خط سے ظاہر ہے گویا دراصل حضرت خلیفہ اسیح اول کی ہی مخالفت ہوا کرتی تھی۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ یہ امر خارج از امکان ہے کہ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کو مسجد کانپور کے تعلق میں حضرت خلیفہ اول کے خیالات کا علم تک نہ ہوا ہو۔یہ لوگ ہمیشہ واقف رہتے تھے اور اطلاعات انہیں ملتی رہتی تھیں۔ستمبر ۱۹۱۳ء کے آخر میں خاکسار واپس راولپنڈی آگیا۔ان دنوں انصار اللہ کے ٹریکٹ شائع ہوا کرتے تھے۔میرا نام بھی ان میں شائع ہوتا تھا۔حالانکہ میں نے خود اپنا نام نہیں لکھوایا تھا۔مجھے یہ حضرت حافظ روشن علی صاحب نے بتلایا کہ جب ٹریکٹ انصار اللہ لکھے جانے لگے تو میں نے اور حضرت خلیفہ ثانی نے آپ ( فضل احمد ) کا نام لے کر پوچھا کہ اُن کی تحریر تو کوئی نہیں آئی۔نام لکھا جائے یا نہ۔تو آپ نے فرمایا۔کہ ان کا نام شائع کرا دیں ان سے پوچھنے کی ضرورت نہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور کو خاکسار پر بڑا اعتماد تھا جے ہیں۔مجھے دفتری محاسب قادیان میں کام کرنے کا موقعہ ملا تھا۔اور قادیان میں محررین کو ششی کہہ کر پکارتے تھے نیز اس مکتوب پر غالباً اگست یا ستمبر ۱۹۱۳ء کی تاریخ درج تھی ( فضل احمد ) خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ یہ اعتماد صحیح تھا اور شیخ صاحب نے ان ٹریکٹوں کی تائید کی کبھی مخالفت