اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 9 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 9

۹ بات کا ذکر کر کے کہا مجھے یقین تھا کہ آپ خوف کے مارے چیخ اٹھیں گے۔لیکن آپ پر ذرہ بھر اثر نہیں ہوا۔دوسرا واقعہ یہ ہے کہ گاؤں میں ایک سرکاری ڈاکٹر ٹیکے لگانے کے لئے آیا۔لوگ بلائے گئے۔میاں شادی قدرے دیر سے پہنچے تو وہ سختی سے پیش آیا اور اس نے گالی دی۔اس وقت سرکاری افسروں کا بہت دبدبہ ہوتا تھا۔اور یہ افسر ایسے ہی رویہ کے عادی ہوتے تھے۔اسے توقع تھی کہ دیہاتی لوگوں کی طرح میاں شادی بھی ہاتھ جوڑ کر منت سماجت کر کے معذرت خواہ ہوں گے۔لیکن آپ نے اسے پکڑ لیا اور وہ کانپ اٹھا مبادا آپ اسے زدو کوب کریں۔لیکن لہنا سنگھ نمبردار آڑے آیا۔اس نے آپ کو باز رکھا۔اور ڈاکٹر کو بھی اس کی غلطی پر تنبیہ کی اور کہا میاں شادی ہمارے گاؤں میں معزز ہیں آپ نے ان کو گالی کیوں دی۔گومیاں شادی کی مالی حالت اچھی نہ تھی۔لیکن آپ اور آپ کی اہلیہ محترمہ کریم بی بی اپنے گاؤں میں نمایاں اسلامی رنگ رکھتے تھے۔صوم وصلوٰۃ۔تراویح اور عیدین کی ادائیگی کا التزام رکھتے تھے۔میاں شادی کے سُسرال بھی صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے۔اور خود میاں موصوف عیدالاضحیہ پر قربانی کرتے تھے۔اور آپ کی رفیقہ حیات لازماً ہر سال ایک بار چاول پکا کر گاؤں کے بچوں میں تقسیم کرتی تھیں۔موصوفہ ۱۸۹۹ ء یا ۱۹۰۰ء میں وفات پا کر موضع سچائیاں میں دفن ہوئیں۔(بابو صاحب نے ان کی قبر پر چالیس روز دعائیں کیں۔گویا قبول احمدیت سے قبل بھی آپ دعاؤں میں مصروف رہتے تھے ) میاں شادی صاحب نے ۱۹۰۱ء میں وفات پائی۔ہیر آپ نے دو کا پہیوں میں یہ درج کیا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں میں سمہ سٹہ ریلوے سٹیشن پر متعین تھا کہ میرے ہاں وطن میں میرے بیٹے بشیر احمد پیدا ہوئے اور میری بیماری کی وجہ سے والد صاحب میری اہلیہ اور بیٹے کو چالیس دن گذرنے سے پہلے میرے پاس لے آئے اور پھر واپس جا کر ایک ماہ میں وفات پاگئے۔لیکن ایک کاپی میں یہ بھی لکھا ہے کہ بوقت بیعت ۱۹۰۵ء میں میرے بیٹے بشیر احمد کی عمر دو سال کی تھی اس طرح ولا دت اس فرزند کی اور وفات والد ماجد کی ۱۹۰۳ء بنتی ہے۔جو بات بابو صاحب مدت العمر نہیں بھول سکتے تھے وہ یہ تھی کہ سمہ سٹہ کی تعیناتی کے عرصہ میں