اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 28 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 28

۲۸ تخفیف کی زد میں آگیا تنخواہ سے بھی بمشکل گزارہ ہوتا تھا۔اور کوئی ذریعہ آمد نہ تھا۔بھلا بغیر تنخواہ گزارہ کیسے ہو سکتا۔میں نے اہلیہ اور یتیم بہنوں سمیت الحاج سے دعائیں کیں اور حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں بھی دُعا کے لئے تحریر کیا۔میری ایک ہمشیرہ نے کہا آپ درخواست دیں کہ حسن کارکردگی کے نتیجہ میں مجھے ترقی دے کر سٹیشن ماسٹر کر دیا گیا تھا۔اس وجہ سے میں جو نیئر بطور سٹیشن ماسٹر ہوں۔میں چھ ماہ گزارہ کیسے کروں؟ مجھے بیشک اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر کر دیا جائے۔تنخواہ تو ملے گی۔چنانچہ میں نے اسے القاء الہی سمجھتے ہوئے درخواست دے دی۔انگریز افسر کا دل درخواست سے دہل گیا حق رخصت چھتیں دن جو بنتا تھا مجھے با تنخواہ دے دیا اور ڈبل الاؤنس پندرہ روپے ماہوار بچت میں دکھا دیا۔میں فری پاس لے کر قادیان اور اقارب کے پاس گیا۔میرے سوا کسی ایک شخص کو بھی با تنخواہ حق رخصت نہ دیا گیا تھا۔واپس آکر سکھر ڈی۔ٹی۔ایس کے دفتر میں حاضر ہو گیا۔ہیڈ کلرک نے کہا کہ چھ ماہ میں سے بقایا حصہ کے لئے جبری رخصت پر آپ کو جانا ہوگا۔میں سارا دن دعائیں کرتا رہا۔جو یوں قبول ہوئیں کہ روہڑی سکھر کے دریا پار ہے۔اور ہیڈ کوارٹر کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ریلیونگ ڈیوٹی والے کو الاؤنس نہیں ملتا تھا۔اس لئے ریلیونگ ڈیوٹی والے بابو چند دن کام کر کے بیماری کا سرٹیفیکیٹ دے کر فارغ ہو جاتے تھے۔اس روز دوسری یا تیسری تارٹیشن ماسٹر روہڑی کی طرف سے ہیڈ کوارٹر میں آئی کہ میرا اسٹنٹ کئی روز سے بیمار ہے۔کام محال ہو رہا ہے۔وہاں کام بہت زیادہ تھا۔اور ہوشیار شخص درکار تھا۔میں ٹرین ورکنگ میں ہوشیار اور پھر ضرورت مند تھا۔اس روز چونکہ ہیڈ کوارٹر بلکہ لائن پر کوئی ریلیونگ کلرک فارغ نہ تھا۔مجھ کو لگا دیا گیا۔میرے کام سے سٹیشن ماسٹر بہت خوش ہوا۔اس طرح کچھ وہاں اور کچھ دوسری جگہ بطور ریلیونگ میں کام کرتا رہا۔اور ایک دن کے لئے بھی مجھے جبری اور بلا تنخواہ رخصت پر نہ جانا پڑا۔نصرت الہی کا ایک اور واقعہ آپ لکھتے ہیں کہ دس سال پنجاب سے باہر رہنے کے بعد میں نے درخواست دی کہ مجھے بھی میرے وطن میں تبدیل کر دیا جائے چنانچہ مجھے لاہور ڈویژن میں تبدیل کر