اصحاب احمد (جلد 3) — Page 282
۲۸۲ تقبل ”ہماری (اس) مجلس مشاورت کی پوری عظمت محسوس نہیں کی جاسکتی۔کیونکہ یہ ابھی پیج کی طرح ہے۔ہمارے سامنے جو ہے۔اس سے بھی زیادہ شاندار ہے جو آج تک کسی فاتح قوم نے دیکھا ہے۔کیونکہ کبھی کسی قوم کے متعلق یہ وعدہ نہیں دیا گیا کہ ترقی کرتے کرتے اس مقام پر اس مقام پر پہنچ جائے گا کہ دوسرے ایسے کمزور ہو جائیں گے کہ ان کی مثال چوہڑے، چماروں کی سی ہو جائے گی۔مگر ہمارے مستقبل کے متعلق یہی خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ دی گئی ہے۔کہ دوسرے مذہب والے اتنے قلیل رہ جائیں گے کہ ہم کہہ سکیں گے کہ اسلام ہی اسلام دنیا میں نظر آتا لوگ۔۔۔ہے۔۔۔ہمارے مشوروں کا تعلق اسی مستقبل سے نہیں۔بلکہ (انہیں) آج بھی ویسی ہی اہمیت حاصل ہے بلکہ آج اس وقت سے بھی زیادہ ہے۔آج ہم جو فیصلے کریں گے۔آنے والے لوگ ان کے بدلنے کی آسانی سے کوشش نہیں کرسکیں گے۔بعد میں آنے والے لوگ پہلوں کا ادب واحترم کرتے ہیں اور یہ بھی سنت ہے کہ نبی کے قریب کے زمانہ کے فیصلوں کو اسلام اور دین بھی خاص وقعت دیتا ہے۔اور اس کا نام اجماع اور سنت رکھا جاتا ہے۔( جس طرح کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضرت ابو بکر اور حضرت ابو ہریرۃ وغیرھما صحابہ نے فلاں بات غلط کی یا کہی) اسی طرح۔۔۔آپ میں سے بہتوں کا یہی ادب اور یہی احترام کیا جائے گا۔اس وقت بڑے بڑے حاکموں کی قدر نہ ہوگی کہ یہ کہہ سکیں پہلے لوگوں نے فلاں فعل غلط کیا۔اور اگر کوئی کہے گا تو ساری رعایا اس کے خلاف کھڑی ہو جائے گی کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حواریوں یا ان کے دیکھنے والوں کی ہتک کرتے ہو گویا۔۔۔دنیا کی فتح کا ارادہ رکھنے والے بلکہ دنیا کو فتح کر کے دکھا دینے والے ایک طرف تو دنیا فتح کر رہے ہوں گے۔مگر دوسری طرف ان میں اتنی ہمت نہ