اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 277 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 277

۲۷۷ مشاورت ۱۹۳۳ء میں فرمایا: صحیح طریق عمل یہ ہے کہ ہر جماعت کے متعلق طے کر لو کہ اس کے لئے کتنا چندہ ادا کرنا واجب ہے۔اگر وہ جماعت اسے پورا نہیں کرتی بغیر کسی معقول وجہ کے تو جو کچھ باقی رہتا ہے وہ اس پر قرض یہ طریق عمل یا تو بجٹ کی کمی پوری کر دے گا یا منافقین کو ہے۔جماعت سے جدا کر دے گا۔۔اس طرح وہ جماعت مجبور ہوگی کہ جو لوگ نا دہند ہیں انہیں ہمارے سامنے پیش کرے اسے تشخیص آمد کی با قاعدگی اور اصلاح کے لئے یہ کام آپ نے دس جائنٹ ناظران بیت المال مقرر کر کے ان کے سپرد فرمایا۔ان میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ، حضرت مرزا شریف احمد صاحب، حضرت میر محمد الحق صاحب اور حضرت منشی برکت علی صاحب شامل تھے۔چنانچہ بجٹ آمد قریباً ساڑھے چھیاسی ہزار روپیہ پہلے سال میں اضافہ ہو کر دولاکھ ساڑھے چھیالیس ہزار سے قدرے بڑھ گیا۔چند سال تک یہ ہنگامی طریق کار جاری رہا اور دوسال خاں صاحب کے سپرد یہ کام رہا ہے۔(۳): شوری ۱۹۳۸ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ایک کمیٹی اس بارے میں مشورہ پیش کرنے کے لئے مقرر کی تھی کہ جس طرز پر تحریک جدید کے ماتحت واقفین زندگی کو خدمت سلسلہ کے لئے لیا جاتا ہے۔کیا اسی طرز پر صدرانجمن کے لئے کارکنان کو لیا جانا مناسب ہوگا یا نہیں۔اصل ناظر صاحب بیت المال کے حضور کی معیت میں سفر پر جانے کے باعث منشی برکت علی صاحب نے بطور جائنٹ ناظر بیت المال اس کمیٹی کے سیکرٹری کے فرائض سرانجام دئے۔۳۲ے رپورٹ ہائے سالانہ ۳۴-۱۹۳۳ء (ص ۹۰ تا ۹۵ و ۳۶ - ۱۹۳۵ء (ص۱۹۲ تا ۱۹۶) آپ اس سال نظارت ہائے علیا بیت المال میں نائب نا ظر متعین تھے۔اور صدر انجمن کے سات اعزازی کارکنوں میں سے تھے۔(ص۲۶۳) جائنٹ ناظر صاحبان کا ایک حصہ ہر سال نیا ہوتا تھا۔اور حضور ان کا تقرر فرماتے تھے۔۳۵-۱۹۳۴ء میں آپ کا نام ان میں شامل نہیں تھا۔لیکن آپ اس وقت نظارت بیت المال سے وابستہ تھے۔