اصحاب احمد (جلد 3) — Page 273
۲۷۳ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادہ حضرت ابراہیم جب فوت ہوئے تو حضور کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو گئے۔اس پر صحابہ نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! آپ تو ہمیشہ ہمیں صبر کی تعلیم دیا کرتے ہیں۔مگر آج آپ کی آنکھوں سے بھی آنسو بہ رہے ہیں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ایسے موقعہ پر آنسوؤں کا جاری ہونا ایک طبعی امر ہے۔پس وہ جو جدائی کا احساس نہیں رکھتا۔طبعی جذبات سے خالی ہے جس کا فقدان سنگ دلی کی علامت ہے۔صبر سنگدلی کا نام نہیں۔بلکہ جزع فزع سے اپنے آپ کو روکنے کا نام ہے۔پھر فرمایا۔جدائی دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک مومن کی اور ایک غیر مومن کی۔غیر مومن کی جدائی میں تاریکی ہی تاریکی نظر آتی ہے اور وہ اپنے ساتھ حسرتیں لے جاتا ہے۔برخلاف اس کے مومن جدائی میں بھی اپنے ساتھ بہت سی خوشیاں رکھتا ہے۔مثال کے طور پر دیکھو ایک سپاہی جو اپنے ملک کی خاطر لڑتا ہے اسے میدانِ جنگ میں جب گولی لگتی ہے تو اسے سوائے تاریکی کے اور کیا نظر آتا ہے۔وہ ملک یا قوم جس کی خاطر وہ لڑا تھا۔وہ ابھی آزاد نہیں ہوتی۔عزیز واقارب سے وہ علیحدہ ہو گیا۔لیکن اسے نہیں معلوم کہ بعد میں ان سے کیا معاملہ ہو نیوالا ہے۔نہ ہی اسے اپنے متعلق علم ہوتا ہے کہ مستقبل میں اس کا کیا حشر ہوگا۔غرضیکہ اسے تسلی دینے والی کوئی چیز نہیں ہوتی۔اور چاروں طرف اس کے لئے تاریکی ہی تاریکی ہوتی ہے۔اور اس طرح وہ بے حد حسرتوں کے ساتھ جان دیتا ہے۔لیکن ایک مومن جو جہاد میں اس لئے جاتا ہے کہ وہ خدا کے دین کی حفاظت کرے۔اسے جب موت آتی ہے تو اس کے لئے اپنے محبوب حقیقی سے ملنے کا رستہ کھول دیتی ہے۔بیشک وہ اپنے عزیز واقارب سے جدا ہوتا ہے۔لیکن وہ اس یقین کے ساتھ جدا ہوتا ہے کہ وہ انبیاء سے ملنے والا ہے۔جو ان اعزا سے بہت بہتر رفیق ہیں۔پھر وہ سمجھتا ہے کہ جدائی