اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 269 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 269

۲۶۹ مد نظر رکھا ہے۔چنانچہ آپ کو یاد ہوگا۔کہ میں نے بعض اوقات جماعت کا احترام کرتے ہوئے اپنی رائے کو ترک کر دیا۔تا ہم اگر کسی دوست کو میری وجہ سے رنج پہنچا ہو۔تو میں اُمید کرتا ہوں کہ وہ میری کمزوریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے معاف کردیں گے۔کیونکہ میں نے دانستہ کسی کو رنج پہنچانے کی کبھی کوشش نہیں کی۔اور کوئی انسان کمزوری سے خالی نہیں۔"برادران ! آپ نے میری اہلیہ محترمہ کو بھی عزت کے الفاظ سے یاد کیا ہے۔بعض باتیں جو میں نے آپ کے ایڈریس کے جواب میں عرض کی ہیں۔وہ ان کی طرف سے بھی ہیں۔میں ان کی طرف سے اور کچھ عرض کرنا نہیں چاہتا۔سوائے اس کے کہ وہ آپ کی اس مہربانی کی بڑی ممنون ہیں۔نیز آپ کے ذریعہ سے جملہ احمدی بہنوں کا شکر یہ ادا کرتی ہیں۔اور دل سے دعائیں دیتی ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے اور آپ کے بال بچوں کو دین و دنیا کی نعمتوں سے مالا مال کرے۔” برادران ! آخیر میں پھر آپ کی مہربانی اور عزت افزائی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔جس کا اظہار آپ نے ایڈریس کے پیش کرنے اور تحفہ عنایت کرنے میں کیا ہے۔“ ۲۷ مطابق ارشاد مزید ملازمت آپ حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے درس القرآن میں شرکت کے لئے قادیان آئے۔اور اس میں شرکت کی۔یہ ایک ماہ کا درس ۸۔اگست ۱۹۲۸ء سے شروع ہوا۔اور اپنی مثال آپ تھا۔احباب کا ذوق و شوق قابل دید تھا۔الحمد اللہ کہ خاکسار مؤلف کو بھی دیکھنے اور اس کا ایک حصہ سننے کا موقعہ ملا ہے۔درس میں باقاعدہ شامل احباب کو دار مسیح میں حضور کی طرف سے دعوتِ طعام دی گئی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیگر نونہالوں نے کھانا کھلایا۔اور ے ستمبر کو درس کے