اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 264 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 264

۲۶۴ رہتے۔جو آپ کو حاصل ہے۔آپ میں سے ہر ایک ایک آیت اللہ ہے۔اور ہر ایک نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خاص نشان سے پہچانا ہے۔میں مختصراً اپنا ذکر کرتا ہوں۔میں بیعت سے پیشتر احمدیوں سے خوب بحث مباحثہ کیا کرتا تھا اور اکثر سننے والے غیر احمدی میری ذہانت کی داد دیا کرتے تھے۔مگر میں نے شرافت کو کبھی ہاتھ سے نہیں دیا۔حضور علیہ السلام کی شان میں کبھی گستاخی نہ کی۔بلکہ محض مسائل پر بحث کیا کرتا تھا۔وفات مسیح اور صداقت مسیح موعود علیہ السلام کا مسئلہ عموماً زیر بحث ہوتا تھا۔مگر میرے دل میں خیال آیا کہ احادیث کا اور دوسری کتابوں کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ان کے مطالعہ کے لئے اتنا وقت کہاں۔قرآن شریف جو مختصر مگر جامع ہدایت نامہ ہے۔اس سے ہر قسم کی مدد ملنی چاہیئے۔گو عربی نہیں آتی۔مگر عربی دانوں نے ترجمہ کیا ہوا ہے۔فیصلہ کرنے سے پیشتر اس کو ایک دفعہ پڑھ لینا چاہیئے۔چنانچہ جب میں نے پڑھا تو بیسیوں آیات وفات مسیح اور صداقت مسیح موعود علیہ السلام پر پائیں۔انہی دنوں میں میں نے خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا۔اس وقت تک میں نے آپ کی شکل نہیں دیکھی تھی۔اور نہ آپ کی کوئی تصویر دیکھی تھی۔آپ میرے ساتھ والے احمدیوں کے مکان میں ایک چارپائی پر تشریف فرما تھے۔میں نے جا کر السلام علیکم عرض کیا۔آپ نے جواب دیا اور فرمایا۔برکت علی ! تم ہماری طرف کب آؤ گے۔“ میں نے عرض کیا حضور ! اب آہی جاؤں گا۔اس کے بعد میں نے تحریری بیعت کر لی۔اور پھر دارالامان جانیکا اتفاق ہوا۔تو دیکھا کہ آپ کی صورت ویسی ہی تھی جیسی کہ میں نے خواب میں دیکھی تھی۔جس سے دل میں یقین پیدا ہوا کہ اللہ تعالٰی نے محض اپنے فضل سے حق کی طرف رہنمائی کی۔یہ اللہ تعالیٰ کا