اصحاب احمد (جلد 3) — Page 253
۲۵۳ ہو جائے۔آمین۔اس انجمن کے دوست یہی نہیں کہ مالی امداد میں ہی بڑھ بڑھ کر حصہ لینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔بلکہ بڑے جوش سے تبلیغ میں بھی مصروف رہتے ہیں۔اس انجمن کا حساب و کتاب بڑا با قاعدہ ہے۔حساب کتاب کے نقشوں میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کس احمدی نے ہر ماہ مدوار کیا چندہ دیا۔اور سال بھر میں اس کا کس قدر مدوار چندہ وصول ہوا۔“ (ص۲۲ ،۲۳) (۴): ۱۹۰۹-۱۰ء سالانہ رپورٹ میں یوں مذکور ہے: انجمن احمد یہ شملہ سیکرٹری بابو برکت علی صاحب۔رقم مدخله خزانہ صدر انجمن ۸۶۰ روپے ۱/۲ ۸ آنے مقامی چندہ ۱۱۵ روپے ۱۴ آنے ۹ پائی یہ انجمن انجمن ضلع ہے۔مگر شاخ کوئی نہیں۔کیونکہ آبادی زیادہ تر اہل ہنود کی ہے۔اور سوائے خاص شملہ کے علاقہ میں کہیں احمدی نہیں ہیں۔لائبریری ہے جس میں حدیث اور تفسیر کی کتب مہیا کی گئی ہیں اس جماعت نے ۱۰۹ روپے کی رقم میر صاحب (حضرت میر ناصر نواب صاحب ناقل) کو تعمیر ہسپتال ودور الضعفاء کے لئے دی۔اس میں سے پچاس کی رقم سیکرٹری صاحب کی والدہ صاحبہ نے عطا فرمائی۔جزاھم الله خيرا اس انجمن کے ہفتہ وار اجلاس ہوتے ہیں۔اور احباب کے لیکچر بھی ہوتے ہیں۔یہ انجمن گورنمنٹ کی بڑی شکر گزار ہے کہ بوقت ضرورت ان کو ٹاؤن ہال میں لیکچر دینے کی اجازت ملتی ہے جس حال میں کہ جاہل مسلمان مساجد میں وعظ کرنے سے روکتے ہیں۔اس انجمن کا حساب با قاعدہ رکھا جاتا ہے۔“ *****۔۔۔۔۔۔۔آپ کی شائع کردہ روئیداد میں مرقوم ہے کہ گذشتہ سال ایک احمدی مقرر کی تقاریر کے اثر مٹانے کے لئے غیر احمدیوں نے ایک مولوی کو بلا یا تھا۔لیکن نیچے چار افراد نے احمدیت قبول کر لی تھی۔اس دفعہ بھی اس مولوی کو بلایا گیا۔لیکن اس نے نہ تو تقریر ص ۶۔نیز مختصر چندہ کی رقم ص ۳۸ پر بھی درج ہے۔