اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 23 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 23

۲۳ دوسری اور آخری ملاقات آپ لکھتے ہیں : 1904ء میں میری تبدیلی ریاست خیر پور میر میں سٹھا رجہ ریلوے سٹیشن پر ہوگئی۔اس سٹیشن سے رخصت لے کر میں گھر اور پھر جمعرات کے روز قادیان پہنچا۔مجھے حضرت مسیح موعود کی دوسری ملاقات نصیب ہوئی۔میں نے کئی نمازیں مسجد مبارک میں پڑھیں۔جن میں حضور بھی شامل ہوئے۔امام کے ساتھ ہی حضرت صاحب کو دائیں طرف کھڑا ہوتے میں نے دیکھا ہے۔اکثر نمازیں ان ایام میں میرے سامنے حضرت مولوی محمد احسن صاحب امروہی مسجد مبارک میں اور حضرت مولوی نورالدین صاحب مسجد اقصیٰ میں پڑھاتے تھے۔مسجد مبارک ان ایام میں بہت چھوٹی سی تھی۔جمعہ مسجد اقصیٰ میں حضرت مولوی نورالدین صاحب نے پڑھایا۔حضرت صاحب نماز میں شامل تھے۔میں نے نماز جمعہ پڑھی۔حضرت صاحب نے بعد نما ز کسی دوست کا باہر سے بیعت کا آیا ہوا کا رڈ ہاتھ میں لے کر احباب کو سنایا اور فرمایا کچھ عرصہ پہلے اس دوست نے مجھے سخت الفاظ میں مخاطب کیا تھا۔( مجھے تو یاد پڑتا ہے کہ فرمایا گالیاں لکھی تھیں ) اب بیعت کا خط لکھا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ پہلے خط میں جو سخت الفاظ لکھے وہ بھی اپنے اس وقت کے حال میں نیک نیتی ہی سے لکھے تھے۔اگلے دن صبح ہم تین مہمانوں نے حضور سے اجازت لینے کے واسطے مسجد مبارک میں داخل ہو کر ایک دروازہ کو دستک دی۔حضور باہر تشریف لے آئے۔میں آخر میں بائیں طرف کھڑا تھا۔ہم نے السلام علیکم کہا۔حضور نے وعلیکم السلام فرمایا۔ہم نے باری باری مصافحہ کیا۔دائیں طرف کے پہلے دوست نے حضور کے ہاتھ میں روپوں کی لگی پیش کی۔ایک کاپی میں آپ نے اس سٹیشن پر ۱۹۰۶ء اور ۱۹۰۷ء میں متعین رہنے کا ذکر کیا ہے۔