اصحاب احمد (جلد 3) — Page 239
عطا فرمائے۔۲۳۹ : رساله گوشت خوری کا کچھ اقتباس اس کے دلائل کی پختگی کے اظہار کے لئے پیش کیا جاتا ہے: معترض سوال کر سکتا ہے کہ اگر انسان کے لئے گوشت کھانا جائز ہے تو یہ تمیز کیوں رکھی ہے کہ فلاں حرام ہے اور فلاں حلال سو اس کا جواب یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیوانات اپنے افعال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔حیوانی عقل کے ماتحت ہیں۔اس کے باہر نہیں جاسکتے۔(وہ) طبعاً اپنی خوراک کو جانتے ہیں۔مگر انسان کا یہ حال نہیں۔نیچر نے انسان کو عقل دیکر اس سے یہ توقع رکھی ہے کہ وہ اسی کے ذریعہ مفید اور مضر غذا کو جانچے (پھر) انسان ناقص ہستی ہے۔اسکی عقل عقل کل نہیں۔محتاج ہے۔۔۔که (دوسرے) اس کو بھلے بُرے سے مطلع کریں۔جسم پر غذا کا اثر ہوتا ہے۔۔روح پر بھی۔جس کے ساتھ ہی اخلاق بدل جاتے ہیں۔پس اخلاق کا اصلاح کر نیوالے کا فرض ہے کہ اخلاقی تعلیم کے ساتھ ہی یہ بھی تعلیم دے کہ خوراک کس قسم کی کھانی چاہیئے۔مگر تاریخ سے ثابت ہے کہ جن لوگوں نے آسمانی تعلق پیدا کر کے۔۔خلق اللہ کی اصلاح کا دعویٰ کیا انہوں نے گوشت کھانے سے منع نہیں کیا۔“ (ص ۶ تا ۹)۔” جب سب حکیم ڈاکٹر اور بید متفق ہیں کہ گوشت مفید غذا ہے تو اس کو کوئی فلسفی دلیل رو نہیں کر سکتی۔۔جو عقل تجربہ کے مخالف چلتی ہے وہ عقل نہیں بلکہ اس کی ضد ہے۔ایک اعتراض یہ ہے کہ ذبح کرنے سے روح کو تکلیف پہنچتی مذبوح کو تکلیف نہیں ہوتی۔۔۔(جواب) تیز ہتھیار سے۔۔ہے۔مثلاً ایک نہایت تیز۔استرے سے اپنے جسم پر گہری کاٹ دے۔۔دیں۔آپ کو اس وقت ہرگز در دمحسوس نہ ہوگا۔البتہ کچھ دیر بعد درد معلوم ہوگا۔مگر۔گردن پر اس طرح وار کرنے سے تو اتنی دیر میں روح خارج ہو جاتی ہے۔کلور و فام سنگھا کر عضو کاٹ دیتے ہیں مگر وہ ہوش میں آکر عضو کاٹ دینے کی کوئی تکلیف بیان نہیں کرتے۔یہی حال مذبوح کا