اصحاب احمد (جلد 3) — Page 224
۲۲۴ ہی شملہ لے گئے اور وہ شملہ جا کر فوت ہوئیں۔اس طرح قادیان جنازہ پہنچانے میں اللہ تعالیٰ نے سہولت پیدا کر دی۔آپ کے تار کے مطابق اقارب جالندھر ریلوے اسٹیشن پر آگئے۔جہاں چند گھنٹے کے لئے جنازہ ٹھہرا لیا گیا۔اور اقارب نے چہرہ دیکھ لیا۔اور لڑ کے اور داماد جو جا سکتے تھے وہ جنازہ کے ساتھ ہو لئے۔اور نماز جنازہ میں شریک ہو گئے۔مرحومہ قریباً چالیس سال کی عمر میں بیوہ ہوئیں۔قریباً بیالیس سال بیوہ رہیں۔اور بیاسی سال کی عمر میں راہی ملک بقا ہو نہیں حضور نے جنازہ پڑھایا اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئیں۔۱۲ زیر مدینہ اسیح “ مرقوم ہے: مکرمی با بو برکت علی صاحب سیکرٹری جماعت شملہ کی والدہ ماجدہ فوت ہوگئی تھیں۔انا للہ وانا اليه راجعون۔ان کا جنازہ مقبرہ بہشتی میں دفنانے کے لئے قادیان لایا گیا۔حضور نے نماز جنازہ پڑھائی۔احباب بھی جنازہ غائب پڑھیں ۱۳ ہے۔موصوفہ محترمہ نے ۱۰۔۱۹۰۹ء میں نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب کی شملہ میں تشریف آوری پر شفا خانہ اور دار الضعفاء قادیان کی تعمیر کے لئے پچاس روپے دئے تھے ۱۴۔آپ کی وصیت کا نمبر ۹۹۰ ہے قطعہ نمبر ۳ حصہ لے نمبر ۴ قبر ہے۔کتبہ کا پلستر مرور زمانہ سے کچھ اتر چکا ہے۔اس کی نقل سطر به سطر درج ذیل ہے۔جہاں عبارت باقی نہیں رہی وہاں نقطے ڈال دیئے گئے ہیں۔كل من عليها فان ويبقى الله اكبر ربک ذوالجلال والأكرام بسم اللہ الرحمن الرحيم محمد والده منشی برکت علی صاحب جالندھری امیر جماعت شمله جمعہ واقعہ ۷ استمبر ۱۹۱۵ء مطابق ۷ ذلقیعد ۱۳۳۳ ہجری کو شملہ میں بھمر ۸۲ سال فوت ہوئیں۔۱۹ ستمبر ۱۹۱۵ء کو بہشتی مقبرہ میں مدفون ہوئیں۔۱۹۰۶ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کی۔لا اله الا هو كل شيئ هالک الا وجهه له الحكم واليه يرجعون۔