اصحاب احمد (جلد 3) — Page 223
۲۲۳ گرمیوں کے دنوں میں عموماً آپ خاں صاحب کے پاس شملہ چلی جاتی تھیں۔مجالس وعظ سننے کا شوق تھا۔آخری عمر میں ایک دفعہ حضرت حافظ روشن علی صاحب شملہ میں آئے ہوئے تھے۔جماعت نے خواتین کے لئے بھی وعظ کا انتظام کیا۔آپ اس وقت اچھی طرح چل پھر نہیں سکتی تھیں۔اس لئے ڈولی میں بیٹھ کر گئیں۔دل کی مخیر تھیں۔مگر زیادہ شوق مساجد وغیرہ کے لئے انفاق کا تھا۔حج کرنے کا شوق تھا۔مگر جانے کا انتظام نہ ہوسکا۔تو آپ نے خاں صاحب کو کچھ روپیہ دے دیا۔کہ جب حج کرنے جاؤ تو میری طرف سے بھی حج کرا دینا۔چنانچہ ایک عرصہ کے بعد جب خان صاحب کو ۱۹۳۴ء میں حج کی توفیق ملی تو آپ نے والدہ ماجدہ کی طرف سے حج بدل کرا دیا۔و آخری عمر میں موتیا بند ( نزول الماء) کی وجہ سے نظر میں نقص واقع ہو گیا۔ان ایام میں حضرت ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب امرتسر میں متعین تھے۔اور اس وقت وہاں ایک انگریز سول سرجن آنکھوں کے بنانے میں اپنی مہارت کی وجہ سے مشہور تھا۔اور اس وجہ سے بھاری فیس لیتا تھا۔لیکن حضرت میر صاحب نے اسی سے تھوڑی فیس دلوا کر آنکھیں بنوادیں۔علاوہ ازیں موصوفہ کو بجائے شفا خانہ میں داخل کرانے کے اپنے گھر میں رکھا۔اس دو تین ہفتہ کے قیام کے عرصہ میں میر صاحب نے خود بڑی احتیاط سے دیکھ بھال کی اور آپکے اہلبیت کلاں نے بھی بہت خاطر و مدارات کی۔حضرت میر ناصر نواب صاحب غالباً مسجد نور اور شفا خانہ نور کے لئے فراہمی چندہ کے سلسلہ میں شملہ میں تشریف لے گئے۔تو موصوفہ نے وصیت کر کے اسی وقت حصہ وصیت آپ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ان کے جنازہ کے متعلق یہ عجیب بات ہے کہ وفات سے پہلے جب وہ اپنے وطن جالندھر میں بیمار ہوئیں تو خاں صاحب کو خیال ہوا مبادا یہ مرض الموت ہو اور وہ وہیں فوت ہو جائیں۔ایسی صورت میں میرے لئے ان کا جنازہ قادیان لے جانا مشکل ہوگا۔کیونکہ غیر احمدی اقارب مزاحم ہوں گے۔سو خاں صاحب روزانہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں لکھتے رہے کہ حضور دعا فرمائیں کہ اگر ان کی موت مقدر ہے تو وہ شملہ آجائیں۔اور وہیں ان کی وفات ہو۔تا میں آسانی سے جنازہ قادیان پہنچا سکوں۔چنانچہ حضور کی یہ دعا قبول ہوئی۔خان صاحب انہیں بحالت مرض