اصحاب احمد (جلد 3) — Page 221
۲۲۱ پر چڑھ کر دیکھ رہے تھے۔اور یہ دیسی سپاہی ہاتھ اٹھا کر انہیں کہتے جاتے تھے کہ خوش ہو کہ اب انگریزوں کا راج آ گیا ہے۔سکھ پاؤ گے۔چنانچہ بعد میں ہم نے دیکھا کہ انگریزوں کے راج میں لوگوں کو بہت آزادی ہوگئی۔سناتی تھیں کہ خاوند کے مرنے پر میں نے یہ عہد کر لیا کہ ساری عمر صوم وصلوٰۃ کی پابند رہوں گی۔محنت کر کے بھی اولاد کی پرورش کروں گی۔اولا د تین لڑکے اور چار لڑکیاں تھیں۔سب سے بڑی لڑکی قریباً سترہ سال کی شادی شدہ تھی۔اور منشی برکت علی صاحب سب سے چھوٹے تھے اور اڑہائی تین سال کے تھے۔خاوند کے ملنے والوں سے کہہ دیا کہ اب کسی کا میرے ساتھ تعلق نہیں جو ان کی زندگی میں تھا۔ماسوا ضروری کام کے میرے پاس کوئی نہ آئے۔اس عہد کے مطابق انہوں نے ساری عمر گذاری اور ہمیشہ نماز روزہ کی پابند ر ہیں۔گھر میں کھانا پکانے کا سب کام خود کرتی تھیں۔ان دنوں آٹا پائی کی مشین رائج نہ تھی۔سب سے پہلا کام منہ اندھیرے چکی پینے کا کرتیں۔محلہ کے کنوئیں سے پانی لاتیں اور بچوں کے بیدار ہونے سے پہلے نماز سے فارغ ہو جاتیں۔ساری عمر سب کام اپنے ہاتھ سے کرتی رہیں حتی کہ پچھلی عمر میں جب عام تمدن میں تغیر آگیا تو چکی پیسنا وغیرہ کام ترک کر دیا۔اس زمانہ میں برادری کے لوگ تقریباً ایک ہی حیثیت کے ہوتے تھے۔اور میل ملاپ رکھتے تھے۔آپ کے گھریلو کاروبار میں اللہ تعالیٰ نے اس قدر برکت دی کہ سناتی تھیں کہ میں نے تھوڑا تھوڑا کر کے نوصد روپیہ جمع کر لیا اور خاوند سے کہا کہ اب ہم مکان پختہ بنالیں۔وہ حیران ہوئے کیونکہ ان کو اس قدر رو پیہ جمع ہونے کا علم نہ تھا۔موصوفہ نے کہا کہ آپ شروع تو کریں اللہ تعالیٰ برکت دے گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسی برکت دی کہ ایک مکان تیار ہو گیا۔محترم خاں صاحب نے ۱۹۰۱ء میں بیعت کی۔اس کے جلد بعد آپ کی والدہ محترمہ بھی سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئیں۔ابتداء تو انہوں نے صرف اس وجہ سے بیعت کی کہ آپ سمجھتی تھیں کہ میرا لڑکا نیک ہے اس لئے اس نے جس شخص کی بیعت کی ہے وہ بھی ضرور نیک اور صادق ہوگا۔وہ پڑھی لکھی نہ تھیں اور نہ زیادہ استدلال کر سکتی تھیں۔لیکن حقیقت