اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 184 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 184

۱۸۴ دیگا۔لیکن حیران تھا کہ یہ کیسے ہوگا۔میں ملازم ہوں سوائے تنخواہ کے زائد آمد کی کوئی صورت نہیں۔پھر میں رشوت نہیں لیتا۔پھر یہ بڑھ چڑھ کر روپیہ کس طرح ملے گا۔لیکن آخر وہ روپیہ مجھے ملا۔۱۹۰۱ء میں مردم شماری ہوئی۔مردم شماری کی کتاب میں کئی باب ہوتے ہیں اور مختلف محکموں کو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنا اپنا حصہ لکھیں حفظانِ صحت کا باب ہمارے محکمہ کے ساتھ تعلق رکھتا تھا۔چنانچہ ہدایت ملی کہ یہ باب تم لکھو۔ہماری برانچ کا افسر انچارج ایک انگریز تھا۔جس کا نام کیپٹن رابرٹس تھا۔اس نے مجھے بلا کر کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ تم اس کے لئے مصالحہ تیار کرو۔مجھے یہ یہ اعداد و شمار چاہئیں اور یہ یہ نقشے درکار ہیں۔یہ تم مہیا کرو۔میں نے اس کی ہدایت کے مطابق اور کچھ اپنی ذہانت سے کام لے کر اُسے تمام مواد بہم پہنچایا جس سے وہ بہت خوش ہوا اور اس نے بطور انعام چھپیں روپیہ ماہوار کے حساب سے ڈیڑھ سو روپیہ مجھے انعام دیا۔اب دیکھو میں خود خیال کرتا تھا کہ بظاہر کوئی ایسی صورت نہیں کہ مجھے زائد روپیہ مل سکے۔لیکن خدا تعالیٰ نے وہ روپیہ دلوا دیا۔اس طرح مجھے یقین پیدا ہو گیا کہ یہ سلسلہ سچا ہے۔آپ مزید بیان فرماتے ہیں: اگر انسان کی نیت نیک ہو اور اس میں اخلاص پایا جاتا ہو۔تو اللہ تعالیٰ انسان کو سیدھے رستہ پر ڈال دیتا ہے۔چنانچہ وہ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلُنَا۔میرے علاوہ ایک اور شخص برکت علی نام کا بھی تھا۔جو گورنمنٹ آف انڈیا کے ایک دفتر میں ملازم تھا۔اس نے بھی چار آنہ ماہوار چندہ دینا شروع کیا تھا۔میں بیعت کر چکا تھا کہ۔میں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا اور یہ خواب مجھے اب تک اسی طرح یاد ہے کہ گویا میں نے وہ واقعہ عالم بیداری میں بچشم خود آپ کے بیان کے مطابق آپ نے نصف سال میں ڈیڑھ روپیہ چندہ دیا ہوگا۔اور اس کا اجر ظاہر ابھی ایک سو گنا یعنی ڈیڑھ صد روپیہ پا لیا۔سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيم۔