اصحاب احمد (جلد 3) — Page 178
۱۷۸ احباب سمیت حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے نماز جنازہ پڑھی اور جنازہ کو کندھا دیا۔اور فرمایا کہ میں ایک ضروری کتاب لکھ رہا ہوں۔ورنہ قبرستان تک ساتھ جاتا۔آپ مقبرہ بہشتی ربوہ میں مدفون ہوئیں۔محترم خاں صاحب نے جماعت شملہ میں سیکرٹری ، جنرل سیکرٹری اور امیر کے طور پر محنت اور اپنے بہترین نمونہ سے ایک تہائی صدی تک خدمات ادا کیں۔لاٹری کے سائرھے سات ہزار روپیہ کی خطیر رقم حضرت اقدس کے ارشاد پر آپ نے فور اتقسیم کر دی۔منارة اسبیح پر دونوں میاں بیوی کے اسماء بھی کندہ ہیں۔ریویو آف ریجنز کے اجراء پر آپ نے تجارتی حصص خریدے جو ارشاد مبارک پر سلسلہ کو دے دیئے۔اور ربوہ کا پانچ ہزار روپے کی مالیت کا مکان سلسلہ کو ہبہ کر دیا۔خود بمعہ اہلیہ صاحبہ مجاہدین تحریک جدید کی پانچ ہزاری فوج میں شامل تھے۔موصی تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی قائم کردہ انجمن کے آپ رکن بنے جس کا نام حضور نے تحیۃ الاذہان رکھا تھا۔اور اس نام کے رسالہ اور الفضل کے حضرت صاحبزادہ صاحب کی طرف سے جاری کرنے پر خریدار بنے اور الفضل کی خریداری بڑھائی۔تبلیغی مقصد کے لئے محترم صاحبزادہ صاحب کی قائم کردہ انجمن انصار الله کے رکن بنے۔حضرت خلیفہ اسی اول بھی اُس کے رکن بنے تھے۔آپ کے زیر اثر جماعت شمله مؤیدین خلافت میں سے تھی۔مرکز سلسلہ میں نظارت علیا میں دفاتر کی نگرانی کے لئے نائب ناظر اور نظارت بیت المال میں بطور نائب۔جائنٹ ناظر اور قائم مقام ناظر اور نیز کچھ عرصہ صدر مجلس کار پرداز مصالح قبرستان بہشتی مقبرہ اور قائم مقام ناظر ضیافت اور ایک بار افسر جلسہ سالانہ ربوہ اہم ذمہ داریاں آپ کے سپرد ہوتی رہیں۔اور جماعت شملہ اور مرکز کی طرف سے شوریٰ میں نمائندگی کی۔اور عموماً اس کی سب کمیٹیوں کے رکن مقرر ہوتے رہے۔ایک بار ایک کمیشن حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے آپ کی صدارت میں تشکیل دیا۔دہلی میں منعقد ایک سالانہ جلسہ کی صدارت کرنے والوں میں آپ بھی تھے۔سرکاری ملازمت سے بریٹائر ہونے پر آپ نے لسانی و قلمی خدمات بھی کیں۔ایک جماعتی تقریب میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے دہلی میں آپ کو جماعتہائے شملہ دہلی کی جماعت کی طرف سے ایک قرآن شریف عطاء فرمایا۔حضور نے ایک دفعہ جماعت کو بتایا کہ مرکز میں معدودے چند پنشنر