اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 177 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 177

122 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم خان صاحب منشی برکت علی صاحب شملوی محترمہ صاحب جان صاحبه والده محترمه عزیزہ بیگم صاحبہ اہلیہ تعارف حضرت منشی برکت علی صاحب ساکن بستی شیخ ضلع جالندھر شملہ میں ملازمت کی وجہ سے شملوی کہلاتے تھے۔شروع سے متدین تھے۔قبول احمدیت سے پہلے ہی چندہ میں شرکت کرنے لگے۔۱۹۰۱ء میں آپ نے اور آپ کے جلد بعد آپ کی والدہ محترمہ اور اہلیہ محترمہ نے احمدیت قبول کر لی۔آپ متعدد بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت مشرف ہوئے۔۱۹۰۶ء میں دس بارہ دن کے قیام قادیان میں ہر دو خواتین کو حضور اور حضرت اما المؤمنین کی ملاقات نصیب ہوئی۔صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کے ہمراہ آپ کی کمسن بچی کھیلتی تھی۔حضور نے اسے گود میں اٹھایا اور پیار کیا۔والدہ صاحبہ مخیر تھیں۔اور صوم وصلوٰۃ کی پابند بعمر بیاسی برس ۱۹۱۵ء میں وفات پائی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔اور آپ بہشتی مقبرہ میں مدفون ہوئیں۔آپ کی اہلیہ محترمہ شعائر اللہ کی تعظیم کرنے والی۔چندہ جات اور زکوۃ ادا کرنے میں با قاعدہ۔بزرگوں اور خاوند کے اقارب کا زیادہ خیال رکھنے والی ، سادگی پسند ، دل کی صاف، قناعت پسند ، تقویٰ میں مشہور ، غرباء کا خاص خیال رکھنے والی اور خاوند کی ایسی خدمت کرنے والی تھیں کہ گھر بہشت کا نمونہ نظر آتا تھا۔لجنہ اماء اللہ شملہ کی صدر رہ چکی تھیں۔دسمبر ۱۹۴۹ء میں چھیاسٹھ برس کی عمر میں وفات پائی۔جلسہ سالانہ پر آمدہ ہزاروں