اصحاب احمد (جلد 3) — Page 169
۱۶۹ صاحب (غیر مبائع ) راولپنڈی میں تھے۔اللہ تعالی نے آپ کو توفیق دی کہ جماعت کا شیرازہ بکھیرنے کے لئے مولوی محمد علی صاحب اور ڈاکٹر بشارت احمد صاحب جو کوششیں کر رہے تھے ان کو بے نقاب کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ متعدد احباب کو بیعت کرا کے خلافت ثانیہ سے وابستہ کرنے کا ذریعہ بنے ان میں خاص طور پر حضرت مولوی علی احمد صاحب حقانی کی بیعت کا واقعہ ہے جو ابتلاء میں پڑ گئے تھے بلکہ ایک وقت جماعت سے منقطع بھی ہو گئے تھے۔مگر اللہ تعالیٰ نے دستگیری فرمائی اور آہستہ آہستہ تمام شکوک وشبہات رفع ہونے پر والد صاحب کے ساتھ جا کر خلیفۃ المسیح الثانی کی بیعت سے مشرف ہو گئے۔آپ اپنی ملازمت کے دوران ہمیشہ اپنے انگریز افسروں تک پیغام حق پہنچاتے رہے۔اور وہ آپ کی غیر معمولی جرأت ایمانی۔فرض شناسی اور حق گوئی سے بہت متاثر ہوتے تھے بلکہ بعض خیالات کے لحاظ سے قریباً مسلمان ہو گئے تھے۔مذہبی مخالفت کے باوجود آپ کی فوجی خدمات کے اعتراف کے طور پر آپ کو متعدد میڈل ملے۔جب آپ بنوں میں تھے تو یونٹ کے بعض مخالف غیر احمدی عہد یداروں نے ایک عرضداشت پیش کرنی چاہی کہ ہمیں ان ( شیخ فضل احمد صاحب ) کے خلاف ایک شکایت ہے یہ ہمارا مذہب خراب کر رہا ہے ہم اس کے ساتھ کام نہیں کر سکتے۔انہوں نے ایک رسالدار کو بطور نمائندہ منتخب کیا اور وہ والد صاحب کے احترام کی وجہ سے وہ عرضداشت لے کر پہلے ان کے پاس آیا اور وہ کاغذ دکھا کر پوچھا کہ آپ اس کا کیا جواب دیں گے۔آپ نے فوراً کہا میں صاحب سے کہوں گا کہ دیکھ لیں قرآن کریم عیسائیوں کو پکا کا فر کہتا ہے۔پس جب آپ بڑے کا فر ہوئے اور ان لوگوں کا آپ کے ساتھ گزارہ ہو سکتا ہے تو میرے ساتھ کیوں نہیں ہوسکتا۔حالانکہ میں بقول ان کے چھوٹا کا فر ہوں۔ان لوگوں کو یہ علم نہ تھا کہ کمانڈنگ آفیسر میجر وارڈل بھی والد