اصحاب احمد (جلد 3) — Page 168
۱۶۸ رہائش کا پتہ لگائیں ان لوگوں نے سمجھا کہ ایک بڑے پیر کے لڑکے ہیں اس لئے خاص اہتمام اور خاص خدام کے ساتھ آئے ہوں گے۔مگر کچھ پتہ نہ چلا۔آخر کو توال صاحب شہر گئے تو انہیں علم ہوا کہ آپ ایک احمدی کے مکان پر اترے ہوئے ہیں کو تو ال صاحب وہاں آئے اور تمہارا لفافہ دکھا کر مجھے کہا میں آپ کی تلاش کر رہا تھا اب آپ مل گے ہیں تو میرے مکان پر تشریف لے چلیں غرض وہ مجھے اپنے مکان پر لے آیا اور شہرو چھاؤنی کے شرفاء کو دعوت دے کر بلایا اور کہا کہ پہلے آپ تقریر فرما ئیں بعد میں کھانا کھلایا جائے گا۔والد صاحب اپنے حالات میں لکھتے ہیں کہ : اللہ تعالی کی ذات پاک دلوں پر نظر رکھتی ہے۔۱۹۲۵ء میں اللہ تعالیٰ نے حضور ( حضرت خلیفہ اسیح الثانی) کی اولاد اور خاندان مسیح موعود علیہ اسلام کے متعدد دیگر افراد کو میرے پاس بھجوا کر میری خواہش پوری کر دی اور وہ اس طرح کہ غالباً جولائی ۱۹۲۵ء کی کسی تاریخ کو ایک قافلہ کی صورت میں ، خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سات صاحبزادگان جن میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بھی شامل تھے میرے ہاں تشریف لائے۔ان صاحبزادگان کی موجودگی سے ہر قسم کی برکت اور رونق ہو گئی یہ اللہ تعالیٰ کا خاص احسان تھا ورنہ بے حیثیت کب اس لائق تھا۔آپ اپنی ملازمت کے سلسلے میں کوئٹہ ، لاہور، راولپنڈی ،شملہ، انبالہ، رز مک نیز کئی شہروں میں رہے لیکن جہاں بھی آپ گئے۔وہاں کی جماعت کے سرگرم رکن رہے اور مختلف عہدوں پر خدمت سلسلہ سر انجام دیتے رہے۔ملکانہ کی تحریک میں بھی شامل ہو کر نمایاں خدمت بجالائے۔اور کسی دنیاوی خطرے کو دین کے مقابل کبھی خاطر میں نہ لائے۔حضرت خلیفہ اسیح اول کی علالت کے آخری ایام میں آپ اور ڈاکٹر بشارت احمد