اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 165 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 165

۱۶۵ لئے تشریف لے گئے والد صاحب کو لکھا کہ میں نے جدہ کے قریب کشف میں دیکھا ہے کہ آپ کی گود میں لڑکا ہے اور ایک ہاتھ میں روپوں کی تھیلی ہے نکاح ثانی کے سلسلہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے میرے نانا حضرت مولوی سراج الحق صاحب پٹیالوی کے ہاں رشتہ تجویز کیا اور والد صاحب سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو اس جگہ رشتہ پسند ہے؟ آپ نے عرض کیا کہ میں تو حضور کی پسندیدگی پر ہی یہ معاملہ رکھوں گا کیونکہ میں نے یہ پہلی شادی اپنی خواہش ہے کی تھی۔اور اس کا جو نتیجہ نکلا وہ ظاہر ہے۔۱۹۲۳ ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے خود ہی درس قرآنِ کریم سے پہلے مسجد اقصیٰ میں نکاح کا اعلان فرمایا۔احمدیت میں شامل ہونے کے بعد آپ کی طبیعت مذہب کی طرف بہت زیادہ مائل تھی اور آپ نمازیں اور دیگر عبادات بڑی باقاعدگی سے بجالاتے تھے ظہر کے وقت نماز با جماعت کے لئے دفتر سے جایا کرتے تھے۔ہندو اور سکھ کلرک اسے پسند نہ کرتے تھے۔۱۹۱۰ء میں ایک سکھ ہیڈ کلرک نے افسر اعلیٰ کے پاس شکایت کی اس نے دریافت کیا کہ کیا تم نماز کے لئے جاتے ہو؟ آپ نے فرمایا یہ درست ہے وہ کہنے لگا۔جب تک میں اجازت نہ دوں تم نہیں جاسکتے۔اس پر آپ نے فرمایا کہ نماز تو میں ضرور پڑھوں گا اور اب بھی نماز کے لئے ہی جارہا ہوں۔آپ عبادت سے مجھے نہیں روک سکتے۔اس کے بعد آپ دفتر نہ گئے اس افسر نے آپ کو ملا زمت سے برخاست کر دیا۔جس کے لئے آپ پہلے ہی تیار تھے۔مگر اس کے بعد اللہ تعالی نے آپ کو پہلے سے بہتر ملازمت غیر معمولی حالات میں عطا فرمائی اور کمانڈنگ افسر نے خود جائے نماز خرید کر دیا اور کہا کہ میرے دفتر میں نماز پڑھا کرو، یہ حضرت خلیفہ اسیح اوّل کی دعاؤں کی برکت تھی ایسے ہی واقعات آپ کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت اور دعاؤں پر یقین بڑھانے کا موجب بنتے گئے۔۱۹۱۰ء کی گرمیوں میں آپ