اصحاب احمد (جلد 3) — Page 164
۱۶۴ ملا۔جب آپ حضرت چوہدری رستم علی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتے تو انہیں حضرت مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کی سوانح عمری جو فارسی میں تھی سنایا کرتے تھے۔فارسی زبان سے آپ کو خاص لگاؤ تھا۔اور ہزاروں اشعار زبانی یاد تھے۔اپنے آخری ایام میں بھی محترم میاں عبدالحق صاحب رامه ناظر بیت المال کے سامنے قریباً روزانہ کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ درثمین فارسی بڑے ذوق وشوق سے پڑھا کرتے تھے۔190ء میں آپ کی پہلی شادی ہوئی اور نہ صرف یہ کہ آپ کی تبلیغ سے ہماری والدہ نے بیعت کر لی بلکہ ان کی والدہ اور بھائیوں نے بھی اور اس طرح آپ کے خاندان میں احمدیت کا سلسلہ جاری ہو گیا، مگر ہماری پہلی والدہ کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی 1919ء کا ذکر ہے کہ جب والد صاحب نے حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی سے دعا کی درخواست کی تو آپ نے کشف میں دیکھا کہ اس بیوی سے کوئی اولاد نہ ہوگی۔البتہ دوسری بیوی سے ہوگی۔اس کا ذکر انھوں نے اپنی کتاب حیات قدسی میں بھی کیا ہے۔ہماری پہلی والدہ مرحومہ کے رشتہ داروں نے چاہا کہ کسی عزیز کے بچے کو متبنی بنایا جائے مگر آپ اس پر رضا مند نہ ہوئے اور کہا کہ اس سے تو لا ولد رہنا ہی بہتر ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے آپ کا ابتدائی زمانہ سے ہی گہرا تعلق تھا۔۱۹۲۰ء میں ایک خط میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے آپ کو تحریر فرمایا: "آپ کی طرف سے ۱۰۰ روپیہ پہنچ گیا چونکہ اس وقت روپے کی خاص ضرورت تھی۔اور خدا تعالی سے دعا کرنے پر وہ روپیہ آیا تھا اس لئے خاص طور پر دعا کی گئی۔آپ کے نکاح ثانی کے متعلق دعا کروں گا۔اگر ممکن ہوا تو کوئی جگہ بھی بتلا سکوں گا۔“ اسی ضمن میں حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر نے جب وہ حج کے 66