اصحاب احمد (جلد 3) — Page 145
۱۴۵ کہی۔راستہ میں مجھے عبدالرحمن صاحب نے کہا کہ خدا نے ہی تصرف کیا ورنہ یہ احمد سعید صاحب بڑے جوشیلے اور لڑا کے ہیں۔خدا جانے یہ سب کچھ سن کر کیسے خاموش رہے۔ہم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیا کہ بات نے طول نہ پکڑا اور قصہ و ہیں ختم ہو گیا جب ہم دونوں دفتر علماء دیو بند پہنچے اور وہاں کے انچارج مولوی صاحب کو پیغام دیا تو انہوں نے کہا کہ میں اس چوکیدار کو ہدایت کروں گا کہ وہ جھگڑا نہ کرے۔وہاں بہت سے علماء جمع تھے اور وہ ان کی دعوت وغیرہ کا انتظام کر رہے تھے۔مگر وقت بچا کر ہمیں کہنے لگے۔ایک بات تو آپ لوگ جتلائیں۔ہم حیران ہیں کہ جس کسی مولوی کو کسی گاؤں میں شدھی وغیرہ روکنے کے لئے بھیجتے ہیں۔اس کو معقول تنخواہ دیتے ہیں۔سفر خرچ دیتے ہیں۔کسی گاؤں میں رہنے کے دیگر ضروری اخراجات بھی دیتے ہیں۔مگر وہ مولوی تھوڑے دنوں کے بعد ہمیں کہتا ہے کہ میں وہاں نہیں رہ سکتا وہاں یہ آرام نہیں۔فلاں سہولت نہیں ، فلاں تکلیف ہے۔یہ ہے وہ ہے۔غرض وہ وہاں نہیں رہتا۔اور ناراض ہو کر چلا آتا ہے۔آپ لوگوں کے پاس وہ کونسا جادو ہے جس کے اثر سے آپ کے آدمی اپنی تنخواہ اور اپنا کرایہ خرچ کر کے اپنے خرچ پر گاؤں گاؤں پھرتے ہیں بھوکے پیاسے رہتے ہیں۔ماریں کھاتے ہیں۔دُکھ اُٹھاتے ہیں۔پھر بھی خوش بخوش ہیں۔اس میں کیا راز ہے۔ہم تو آپ لوگوں کے متعلق سوچ کر حیران رہ جاتے ہیں۔یہ بات کہنے والے بڑے عالم تھے۔ہم نے کہا آپ دانا ہیں خود ہی سوچ لیں۔وہ مسکرا پڑے اور ہم چلے آئے۔اسی ذکر میں کہ احباب نے علاقہ ملکانہ کے جہاد میں کیسی کیسی جاں شاری دکھلائی اور کیسی مشکلات کی زندگی کائی۔میں حکیم فضل حق صاحب بٹالوی مرحوم کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔میں جن دنوں آگرہ میں حسابات تیار کر رہا تھا حکیم فضل حق صاحب مرحوم آگرہ آئے۔انہوں نے مجھے بتلایا کہ میں الور میں متعین ہوں جو اس پہاڑ کے دامن میں ہے۔جہاں حضرت کرشن جی مہاراج عبادت کیا کرتے تھے۔وہاں بے شمار سانپ ہیں۔اور کہتے تھے کہ ہم لوگ نماز عشاء پڑھ کر جب چار پائیوں پر سو جاتے ہیں تو صبح تک چار پائی سے نیچے نہیں اتر تے کہ مبادا نیچے سانپ ہو اور وہ ہمیں کاٹ کھائے۔