اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 141 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 141

۱۴۱ خلاف شان کبھی کوئی بات نہ کرتے۔ایک احمدی بھائی ملک الطاف خان صاحب محلہ دار الفضل قادیان میں رہتے تھے۔ان کے بہت مداح تھے اور ان کے الہامات کا بھی اکثر ذکر کرتے۔یہی وجہ تھی کہ خدا نے ان کو پھر جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔حضرت مصلح موعود کی قبولیت دعا کا نشان اللہ تعالیٰ کے مجھ پر بے حد احسان ہوئے۔ایک یہ کہ ۳ نومبر ۱۹۵۷ء کو بندش بول سے کوئی ایک ماہ سے اوپر شدید بیمار رہا۔ایک وقت مجھ پر ایسا آیا کہ میری آنکھیں پتھرا گئیں۔اور نزع کی سی کیفیت وارد ہو گئی۔چھت کی ایک کڑی پر میری نظر تھی۔لیکن بول نہ سکتا تھا۔میرے تمام بیٹے خدمت میں مصروف تھے۔حضرت مصلح موعود۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب (رضی اللہ تھم ) اور دوسرے بہت۔بزرگ میرے حق میں دعائیں کرتے تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا منشاء تھا کہ لاہور جا کر میوہسپتال میں علاج کروایا جائے۔پسرم عزیز محمد احمد سلمہ نے عرض کی کہ اڈہ بس تک لے جانے پر ہی ابا جان کی وفات ہو جائے گی۔ایک روز میاں غلام محمد صاحب اختر عیادت کے لئے آئے۔میری حالت بہت نازک تھی۔میں نے چشم پر آب ہو کر کہا کہ حضرت مصلح موعود کی خدمت میں حاضر ہوں تو میری طرف سے بعد السلام علیکم عرض کریں کہ بادشا ہوں کے ہاں شادی وغیرہ خوشی کی تقریبات پر قیدی رہا کئے جاتے ہیں۔حضور کے خاندان میں بھی ایک ایسی ہی تقریب ہے۔میں مرض کا اسیر ہوں۔دعا کر کے مجھے مرض سے آزاد کرائیں۔اختر صاحب نے بعد میں بتایا کہ جب میں نے یہ پیغام عرض کیا تو حضور کے چہرہ سے یوں معلوم ہوتا تھا کہ حضور نے دعا کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قبول دعا کا یہ نشان دکھایا کہ ایک ماہ سے زائد عرصہ سے آلہ کے ساتھ پیشاب خارج کیا جاتا تھا۔اس واقعہ کے بعد : حضرت ملک محمد الطاف خان صاحب ہجرت کر کے دار الفضل میں مقیم ہو گئے تھے۔بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہیں۔خان بہادر صاحب چند سال قبل وفات پاچکے ہیں۔زیر اخبار احمد یہ الفضل ۱۲ نومبر ۱۹۵۷ء میں آپ کو بندش پیشاب بخار اور اسہال ہونے کا ذکر ہے۔