اصحاب احمد (جلد 3) — Page 135
۱۳۵ یونٹ میں اختلاف پڑ جائے تو میں پُر زور سفارش کرتا ہوں کہ فضل احمد کی بات پر کمان افسر عمل کرے۔کیونکہ یہ بہت دیانتدار اور سچا آدمی ہے۔وغیرہ۔۱۹۱۴ء میں افسر مذکور کے بعد لیفٹیننٹ اینڈ رسن آئے اور ہمیں نوشہرہ جانا ہوا۔یہاں ایک روز ایک رسالدار مجھے ایک سید کے مکان پر لے گئے۔وہ نوشہرہ کا رئیس تھا۔اس بد زبان نے حضرت ام المومنین کی شان میں بے ادبی کے کلمات کہے۔جس سے میرا دل جل گیا۔اور ابھی تیسرا دن نہ گذرا تھا کہ میرے دل کا شعلہ اس سید کے ٹال پر جاپڑا۔اور اسے آگ لگ جانے سے اس کا ایک لاکھ روپے کا نقصان ہو گیا۔میں اس کی پریشانی کو دیکھتا اور اللہ تعالیٰ کے حضور حضرت ام المؤمنین کی قدرو منزلت کو محسوس کرتا۔اور اس کی قدرتوں کا تصور کر کے محو حیرت ہو جاتا کہ شدید البطش نے کتنی جلدی اس رئیس کو پکڑا اور اس کا سینہ جلا دیا۔ع میرے دل کی آگ نے آخر دکھایا یہ اثر ان کے بعد ایک اور کمان افسر کپتان ڈیمیٹر آگئے۔میں راولپنڈی میں تھا اور ہمارا کور جلال آباد کے قریب۔وہاں چارج لینے پر میری غیر حاضری میں بعض ہندوستانی افسران نے ان کو کہا کہ آپ کی کور کا کمان افسر تو دراصل با بو فضل احمد ہی ہے۔جو یہاں کا ہیڈ کلرک ہے۔اس نے جوش میں آکر کہا کہ ہم اسے دیکھیں گے۔اور وہ ہمارے زمانے میں نہ رہ سکے گا۔تھوڑی دیر کے بعد وہ ایک بڑے افسر کو جلال آباد میں ملنے گیا۔جس نے اسے اس یونٹ کا چارج لینے پر مبارک باد دی کہ وہاں ایک بابو فضل احمد نام ہے اور کہا کہ تم اس کی بات مانا کرنا اور اس کے خلاف کسی کی شکایت نہ سُنتا۔وہ حیران ہوا۔چند دن بعد راولپنڈی آیا تو ہمارے یونٹ کے سرداروں کے متعلق میری رائے پوچھی۔مجھے علم تھا کہ وہ کہہ چکا ہے کہ ہمارے زمانہ میں فضل احمد نہیں رہے گا۔اور اب وہی افسر پوچھ رہا ہے کہ انڈین افسروں کے متعلق اپنی رائے بیان کروں۔پہلے تو میں خوفزدہ ہوا۔مگر اس کے اصرار پر میں نے اپنی رائے بیان کی تو اس نے بہت خوش ہو کر کہا کہ آپ ہمارے زمانہ میں بھی ویسے ہی معزز رہیں گے۔جیسے پہلے افسران کے زمانہ میں رہے ہیں۔میں اللہ تعالیٰ کے اس کام پر ابھی حیران ہی تھا کہ افسر نے واپس جا کر اپنے پاس مجھے بلانا چاہا۔میں نے روزانہ کی تلاوت