اصحاب احمد (جلد 3) — Page 128
۱۲۸ (۱) دسمبر ۱۹۱۴ء میں مجھے جنگ پر اپنی کور کے ہمراہ بنوں اور میراں شاہ وغیرہ جانا پڑا۔میں نے کمانڈنگ افسر میجر وارڈل کو اسلامی اصول کی فلاسفی (انگریزی) دی تو بعد مطالعہ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب بہت عمدہ تالیف ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اس کا اردو ترجمہ کر دو تا کہ اپنی یونٹ کے عہدہ داروں میں اس کی نقول تقسیم کر دوں۔مجھ سے یہ معلوم کر کے که اصل کتاب اردو کی ہے۔اس کی سینتیس ۳۷ جلدیں سرکاری خرچ پر وی، پی منگوائیں۔باوجودیکہ میں نے ان سے کہا کہ اس کی تقسیم سے فتنہ پیدا ہوگا۔اور غیر احمدی شکایت کریں گے کہ یہ احمدی با بوان لوگوں کا مذہب تبدیل کرانا چاہتا ہے۔افسر موصوف نے بقیہ حاشیہ محترم مولوی سراج الحق صاحب ابن محمد عبد اللہ صاحب صحابی ابن صحابی تھے۔موصی نمبر ۹۹۷۷ وفات ۳۰ نومبر ۱۹۵۴ء بعمر ستر سال۔مدفون مقبره بهشتی ربوہ منشی سراج الحق صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح کے ایک صاحبزادہ کی ولادت کی خوشی میں قادیان کے تیموں کی پُر تکلف دعوت حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے مکان پر کی (الفضل ۱۹۲۳ صفحہ ۲ )۔اہلیہ اول سے آپ کا حسن سلوک آخر تک قائم رہا۔موصوفہ بہشتی مقبرہ میں دفن ہیں: کتبہ کی نقل سطر به سطر درج ذیل کی جاتی ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم محترمه سردار بیگم صاحبه زوجہ شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی حال قادیان عمر ۴۷ سال وفات ۴۹۳۹ وصیت نمبر ۱۶۴۱