اصحاب احمد (جلد 3) — Page 122
۱۲۲ بستر وہیں رہ گیا۔جس کا علم قادیان پہنچنے پر ہوا۔مکرم عبد اللہ صاحب ٹیلر نے جو بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔مجھے بتلایا تھا کہ انہوں نے راولپنڈی کے سٹیشن پر خود یہ بستر اُٹھا کر سیکنڈ کلاس کمپارٹمنٹ میں رکھا تھا۔جہاں حضور معہ اہل وعیال سوار تھے اور یہ بھی بتایا کہ ایک عرصہ بعد نیلامی کے وقت اس بستر میں سے ایک لفافہ دیکھ کر جس میں حضور کا اسم مبارک اور پتہ درج تھا۔آپ کی شان اور حیثیت کو مدنظر رکھ کر بستر حضور کی خدمت میں بھجوا دیا۔مجھے جب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو میں گھبرا جاتا ہوں۔کہ کہیں حضور کے دل میں یہ خیال نہ آیا ہو کہ میری غفلت اس کی گمشدگی کا باعث بنی تھی۔اللہ تعالیٰ ہی غفلتوں سے بچائے اور اس بات سے بھی کہ اپنی شامت اعمال سے یہ دن نہ آئے کہ غفلت کسی کی ہو اور نام کسی اور کا لگ جائے اور کسی پاک انسان کے دل پر میل آجائے اور گنہگار کو اس پاک دل کے پریشان ہونے کی وجہ سے تکلیف پہنچے خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ محترم شیخ فضل احمد صاحب کے قلب صافی کی جھلک اس بیان سے ظاہر ہوتی ہے۔کیونکہ ایک مومن کی قلبی کیفیت۔الایمان بین الخوف والرجاء والی ہوتی ہے۔خاندان حضرت مسیح موعود کے نونہالوں کا میرے ہاں قیام آپ نے بیان کیا کہ: خدائے قدوس کی نظر قلوب پر ہوتی ہے۔میرا خیال ہے کہ چونکہ میں نے ۱۹۱۳ء میں خلیفہ اسیح الثانی کو دعوت دی تھی کہ کوہ مری میں میرے پاس تشریف لائیں۔اور آپ نے معذوری ظاہر کی تھی ، ۱۹۲۵ء میں آپ کی اولا د اور خاندان مسیح موعود علیہ السلام کے دیگر افراد کو بھجوا کر اللہ تعالیٰ نے میری خواہش پوری کر دی۔چنانچہ غالبا جولائی ۱۹۲۵ء میں ذیل کے افراد پر مشتمل قافلہ میرے مکان پر اترا: (۲۱): حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمر صاحب (خلیفہ ثالث ) - مکرم مرزا مبارک احمد صاحب ابناء حضرت خلیفہ اسیح الثانی۔(۴۳) : مکرم مرزا مظفر احمد صاحب و مکرم مرزا حمید احمد صاحب۔ابناء