اصحاب احمد (جلد 3) — Page 112
۱۱۲ حضرت خلیفہ اول کی وفات ۱۳ مارچ کو ہوئی اور ۱۴ مارچ کو حضرت خلیفہ ثانی تخت خلافت پر متمکن ہوئے۔میں نے اطلاع پاتے ہی بیعت کا خط لکھ دیا۔مگر راولپنڈی کے کسی اور کے بیعت کرنے کا مجھے علم نہ ہو سکا۔۲۰ مارچ کو ڈاکٹر صاحب ابھی قادیان میں تھے۔اس لئے جب احباب نے مجھے جمعہ پڑھانے کو کہا تو میرا خیال تھا کہ دوست خوش نہ ہوں گے۔کیونکہ ڈاکٹر صاحب کا احباب پر اثر بھی تھا اور وہ خوش الحان بھی تھے۔میں نے خطبہ کے شروع میں کہا کہ جن دوستوں نے نماز ڈاکٹر صاحب کے پیچھے پڑھنے کی نیت کی ہوئی ہے وہ سمجھ لیں کہ ان کی نماز اللہ تعالٰی کی نماز نہیں۔اللہ تعالٰی کی نماز وہ ہے جو محض اسی کے لئے پڑھی جائے۔پڑھانے والا خواہ کوئی احمدی ہو۔بڑا ہو یا چھوٹا۔خوش الحان ہو یا بھری آواز والا۔بڑے علم والا ہو یا کم علم والا وغیرہ وغیرہ۔اس کا اثر دوستوں کے دلوں پر ہوا۔ڈاکٹر بشارت احمد واپس آکر اس امر کی تشہیر کرنے لگے کہ قادیان میں سوائے چند قادیانیوں کے اور لوگوں نے بیعت نہیں کی۔دوست مولوی محمد علی صاحب کے ساتھ ہیں وغیرہ وغیرہ۔چونکہ حضرت خلیفہ اول کی وفات کے ساتھ ہی اہل پیغام نے ایک گمنام ٹریکٹ کی عام اشاعت کر دی تھی۔جس سے احباب بیعت کرنے سے رُک گئے تھے۔اور اس کا زیادہ اثر راولپنڈی میں تھا۔وہاں ڈاکٹر بشارت احمد صاحب درس دیا کرتے تھے۔۲۷ مارچ دوسرے جمعہ کو ڈاکٹر صاحب نے نماز پڑھائی۔خطبہ میں حضرت مولوی محمد احسن صاحب پر پھبتیاں اڑائیں اور کہا کہ ان کو تو قرآن کریم کی ہر ایک آیت سے خلافت محمود ہی نکلتی نظر آتی ہے۔نماز کے بعد میں نے احباب کو کہا کہ میری بات سُن کر جائیں۔میں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کا مولوی محمد احسن صاحب پر ہنسی اڑانا بہت نا پسندیدہ امر ہے۔آپ دوست ڈاکٹر صاحب سے پوچھیں کہ ایسے شخص کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں جو رشوت کا روپیہ لے کر اپنے پاس جمع کر رکھتا ہے۔یہ شخص مولوی محمد علی صاحب ہیں۔اور اس واقعہ کے میرے ساتھ خود ڈاکٹر بشارت احمد صاحب بھی گواہ ہیں۔اس پر لوگوں میں ایک شور پڑ گیا۔مگر اسی وقت گجرات کے ایک غریب دوست نے جو راولپنڈی میں پھیری کا کام کرتے تھے۔مجھے بتایا کہ انہوں نے بھی بیعت کر لی ہے۔اور سید محمد اشرف صاحب نے بھی اسی دن مجھے بتلایا کہ وہ بھی بیعت کا خط لکھ چکے ہیں۔مگر وہ اس کو ظاہر کرنا نہیں چاہتے تھے۔