اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 82 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 82

۸۲ دفتر میں ہوگئی۔میں جب کبھی نماز کے لئے ظہر کے وقت جاتا تو سکھ ہیڈ کلرک نہال سنگھ بُرا مناتا۔چنانچہ ایک روز اس نے میری شکایت کر دی اور افسر مذکور نے مجھے بلا کر کہا کہ کیا تم نماز کے لئے دفتر کے وقت میں چلے جاتے ہو؟ میں نے کہا یہ درست ہے وہ کہنے لگا۔جب تک میں اجازت نہ دوں تم نہیں جاسکتے۔اس وقت نماز ظہر کا وقت تھا۔اس پر میں نے کہا۔صاحب! میں نماز ضرور پڑھوں گا۔اور اگر آپ کو میری یہ بات ناگوار ہو تو میں آپ کو کہے دیتا ہوں کہ اب میں نماز کے لئے جاتا ہوں اور آپ مجھے اس سے روک نہیں سکتے۔یہ کہہ کر میں اسی کے سامنے دفتر سے نکل گیا اور سارے دفتر نے یہ نظارہ دیکھا۔اس کے بعد میں چند روز تک دفتر نہ گیا۔تو ہیڈ کلرک نے مجھے ایک رقعہ لکھا کہ دفتر میں آکر جواب دو تم کیوں غیر حاضر ہورہے ہو۔میں نے چپڑاسی کو جو چٹھی لایا تھا کہدیا کہ کہ ہیڈ کلرک سے کہدو کہ اگر میرے ساتھ خط و کتابت کرنی ہے تو افسر کو کہو وہ مجھے لکھیں۔پھر میں جواب دوں گا۔افسر نے دوسرے روز مجھے رقعہ لکھ کر دفتر بلایا۔اور پوچھا کہ غیر حاضر کیوں ہو اور کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا دفتر سے اس لئے غیر حاضر ہوں کہ آپ مجھے نماز پڑھنے سے روکتے ہیں اور آپ جیسے افسر کے سامنے مجھے کسی قسم کی درخواست کرنے کی ضرورت نہیں۔حضرت صاحب نے میرے اس واقعہ کا ذکر اپنی کتاب ملا لگتہ اللہ میں صفحہ پچاس پر کیا ہے۔افسر مذکور پر کچھ ایسا اثر ہوا جیسے کوئی ڈر جاتا ہے۔زبان سے کچھ نہ بولا۔اور مجھے جرنیل کے دفتر میں لے گیا۔اور بغیر میری پیشی کے جو جرنیل کے پاس ہوئی تھی اور جس کے لئے میں تیار تھا میرا استعفاء منظور کرالیا۔اور میں بٹالہ چلا آیا۔قادیان میں ملازمت اور اہلیہ کی شفایابی مزید تحریر فرماتے ہیں: اگست ۱۹۱۰ء میں میری بیوی بیمار ہوگئی۔انہیں بٹالہ پہنچانا پڑا۔ڈلہوزی واپس آنے پر میرے ساتھ افسر کا مذکورہ بالا واقعہ پیش آیا اور مجھے استعفی دینا پڑا۔میں بٹالہ چلا آیا۔ملازمت چھوڑنے کی وجہ سے میری بیمار بیوی کے دل پر اور بھی بُرا اثر پڑا۔اور انہیں تپ محرقہ ہو گیا۔میں انہیں اور ان کی والدہ محترمہ کو لے کر قادیان گیا۔جہاں مجھے صدر انجمن