اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 5 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 5

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مختصر تعارف نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُود با بو فقیر علی صاحب رضی اللہ عنہ حضرت بابو فقیر علی صاحب نے جو ضلع گورداسپور کے باشندہ تھے۔سندھ سے جہاں آپ ریلوے میں ملازم تھے ۱۹۰۵ء کے اواخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔اور دوبار قادیان آکر زیارت کی۔۱۹۲۸ء میں قادیان تک ریل گاڑی جاری ہونے پر آپ اولین سٹیشن ماسٹر مقرر ہوئے۔بعمر قریباً اسی ۸۰ سال ۱۴دسمبر ۱۹۵۹ ء کو آپ نے وفات پائی۔قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔اور ربوہ میں مدفون ہوئے۔آپ کی سیرۃ کے درخشندہ پہلو یہ تھے کہ آپ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے سچے فدائی عابد و زاہد۔باجماعت نماز اور تہجد کا التزام کرنے والے۔دینی مطالعہ کے شائق۔منکسر المزاج۔رشوت خوری کے بحر عصیاں میں گھرے رہنے کے باوجود سختی سے اس سے اور کسب حرام سے بلکہ مال و منال سے نفور۔سیر چشم۔قناعت پسند۔عُسر میں بھی انفاق فی سبیل اللہ کرنے والے۔ملازمت کے مفوضہ فرائض کی ادائیگی دیانتداری۔جرات مندی اور با اصول طور پر کرنے والے۔تحریکات سلسلہ میں حسب استطاعت بڑھ بڑھ کر حصہ لینے والے۔نہایت مستعدی کے ساتھ بے باک تبلیغ کا جوش رکھنے والے بزرگ تھے۔اور دل بہ یار و دست به کار کا ایک عجیب نمونہ تھے۔رضی اللہ عنہ آپ کے سوانح میں جو بیان کردہ امور کسی کی طرف منسوب نہیں کئے گئے۔وہ آپ کے مرقومہ قلمی حالات سے اخذ کئے گئے ہیں۔آپ نے تین کا پیوں وغیرہ پر حالات تحریر کئے تھے۔جو مجھے آپ کے فرزند مکرم میاں بشیر احمد صاحب (امیر جماعتہائے احمد یہ ضلع جھنگ) سے ملیں۔ان میں تکرار یا ایک جگہ اختصار اور دوسری جگہ تفصیل اور کسی کسی مقام پر معمولی سا اختلاف ہے۔خاکسار نے کتاب ہذا میں حسب ضرورت