اصحاب احمد (جلد 3) — Page 50
منتظر تھے کاندھے پر سُرخ رومال اور منہ میں پان کی گلوری ڈالے۔مجھے دیکھ کر مطراق سے کمرہ میں آدھمکے اور پوچھا بابو صاحب ! دجال کا گدھا کتنا لیٹ ہے؟ اگر چہ ٹرین ڈسپیچر کی ڈیوٹی پر میں سخت مصروف تھا۔ایک ایک لمحہ بعد کیبن مینوں کو گاڑیوں کی آمد ورفت شنٹنگ انجن۔لائنوں اور سگنلوں کے متعلق ہدایت دے رہا تھا کہ فلاں لائن پر انجمن آنے دو۔فلاں سیکنل ڈاؤن کر دو۔فلاں لائن شٹنگ جمعدار سے صاف کراؤ وغیرہ با وجود نحیف الجنۃ ہونے کے میں نے بقیہ حاشیہ صفحہ نمبر ۵۰ : مولوی ثناء اللہ نے جواباً اہلحدیث ۱۹ اپریل ۱۹۰۷ء میں لکھا : دمیں نے آپ کو مباہلہ کے لیئے نہیں بلایا میں نے تو قسم کھانے پر آمادگی کی ہے۔مگر آپ اس کو مباہلہ کہتے ہیں۔حالانکہ مباہلہ اس کو کہتے ہیں جو فریقین مقابلہ پر قسم کھا ئیں۔میں نے حلف اٹھانا کہا ہے۔مباہلہ نہیں کہا۔قسم اور ہے۔مباہلہ اور ہے۔(ص۴) مذکورہ بالا ثنائی فرار کے ظہور پذیر ہونے سے قبل حضور نے ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء کو آخری فیصلہ“ کے عنوان سے اپنی طرف سے دعائے مباہلہ شائع کرتے ہوئے لکھا کہ : ”مولوی صاحب اس اشتہار کو اہلحدیث میں شائع کر کے جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔مولوی صاحب نے اہلحدیث ۲۶ اپریل ۱۹۰۷ء میں لکھا۔اوّل اس دعا کی منظوری مجھ سے نہیں لی اور بغیر میری منظوری کے اس کو شائع کر دیا۔اور تمھاری یہ تحریر کسی صورت بھی فیصلہ کن نہیں ہوسکتی۔خدا کے رسول چونکہ رحیم وکریم ہوتے ہیں اور ان کی ہر وقت یہی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شخص ہلاکت میں نہ گر پڑے۔مگر اب کیوں آپ میری ہلاکت کی دعا کرتے ہیں۔مختصر یہ کہ: یہ تحریر تمھاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اسے منظور کر سکتا ہے۔نائب ایڈیٹر نے اسی پر چہ میں لکھا کہ خدا تعالیٰ جھوٹے دغا باز مفسد اور نا فرمان لوگوں کو لمبی عمریں دیا کرتا ہے تا کہ وہ اس مہلت میں اور بھی بُرے کام کر لیں۔“ اور مولوی صاحب نے اس عبارت کی تصدیق کی کہ میں اس کو صحیح جانتا ہوں۔(پرچہ الحدیث ۳۱۷/۸)