اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 49 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 49

۴۹ میاں محمد ابراہیم صاحب پسر مستری قطب الدین صاحب مس گر۔چوہدری اللہ بخش صاحب (جو اس وقت مستری کے نام کے ساتھ معروف تھے )۔غلام رسول صاحب کشمیری۔عبد الخالق برادران شربت فروش حکیم غلام غوث صاحب۔مولوی عبد العزیز صاحب ہیڈ کلرک پوسٹ سارنگ برانچ شیخ اللہ بخش صاحب کلاه فروش۔ملک مولا بخش صاحب اور ان کے خسر میاں اللہ بخش صاحب پٹویلی **۔ڈاکٹر عباداللہ صاحب میاں غلام محمد احب کشمیری۔میاں غلام نبی صاحب مس گر۔اور مولوی نبی بخش صاحب کشمیری - - آپ لکھتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری سے میرا متعدد بار مقابلہ ہوا۔ایک مجمع میں مولوی صاحب مذکور نے فخریہ انداز میں اپنی ایک مزعومہ فتح کا ذکر کیا۔اور کہا کہ میری زندگی میں مرزا مر گیا۔میں نے مولوی صاحب کو ان کا اپریل ۱۹۰۷ ء کا پرچہ اہل حدیث یاد دلایا جس میں مولوی صاحب نے نہایت تحدّی سے شائع کیا تھا کہ مرزا صاحب کی شرط ہمیں منظور نہیں۔قرآن مجید کی رُو سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نافرمانوں کو مہلت ملتی ہے۔میں تو زندہ رہ کر معجزہ دیکھنا چاہتا ہوں۔اس پر مولوی صاحب خاموش ہو گئے۔اور ایک روز مولوی صاحب کلکتہ جانے کے لئے کلکتہ ایکسپرس کے مالک اللہ بخش سٹیم پریس قادیان۔ولادت ۱۸۸۷ء بیعت ۱۸۹۸ء وفات ۴۵۷ ۶- مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ۔: میاں عبدالخالق صاحب کا ۳۱۳ صحابہ میں اٹھارواں نمبر ( انجام آتھم ) ملک مولا بخش صاحب اور ان کے خسر صاحب کے سوانح کے لئے دیکھئے اصحاب احمد جلد اول ****: میاں نبی بخش صاحب رفوگر امرتسری کا نمبر ۳۱۳ صحابہ میں ستر ہواں ہے ( انجام آتھم ) : بدر ۱۴ اپریل ۱۹۰۷ء میں شائع ہوا: مولوی ثناء اللہ صاحب کو بشارت دیتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب نے ان کے اس چیلنج کو منظور کر لیا ہے۔وہ بیشک قسم کھا کر بیان کریں کہ یہ شخص اپنے دعوئی میں جھوٹا ہے اور بیشک یہ بات کہیں کہ اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو لعنتہ اللہ علی الکاذبین۔قرآنی مباہلہ کی بنیاد جس قرآنی آیت پر ہے اس میں تو صرف لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ہے۔بقیہ اگلے صفحہ پر