اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 48 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 48

۴۸ اطلاع دے کر مطمئن ہو جاتے تھے۔آپ نے میری اور میرے چھوٹے بھائی مہر محمد عبد اللہ صاحب مقیم کراچی ہر دو کی اچھی طرح پرورش کی اور قادیان میں ہماری تعلیم کے دوران با قاعدگی سے اخراجات بھجواتے تھے۔میں نے میٹرک اور بھائی نے ایف اے پاس کی۔اور پھر آپ نے ہماری شادیاں علی الترتیب اپنی بھانجی اور پوتی کے ساتھ کر دیں۔شدید جذبہ تبلیغ آپ شدید جذبہ تبلیغ رکھتے تھے۔چنانچہ آپ نے ارتداد علاقہ ملکانہ کے وقت وہاں تبلیغ کی اس وقت اپنے خرچ پر وہاں قیام کرنا ہوتا تھا۔۱۹۳۷ء میں آپ ملک ایران میں آنریری طور پر تبلیغ کیلئے گئے۔آپ لکھتے ہیں کہ جب میں سٹھا رجہ سٹیشن پر متعین تھا تو بوجہ داڑھی کے مولوی یا بوجہ احمدیت کے مرزا کے نام سے معروف تھا۔اس سٹیشن کے پاس ریاست خیر پور کا اناج کا ذخیرہ تھا۔اس لئے مال ڈبوں کی آمد ورفت کثرت سے ہوتی تھی۔اور مجھے ان لوگوں کو تبلیغ کرنے کا موقعہ ملتا تھا۔ایک سندھی دوست منشی محمد یعقوب صاحب پٹواری یہ سن کر کہ میں احمدی ہوں میرے پاس آئے اور حضور کے زمانہ میں ہی انہوں نے تحریری بیت کر لی۔اور رانی پور کے ایک مشہور پیر کے خلیفہ محمد صدیق صاحب نے بھی میرے ذریعہ احمدیت قبول کی تھی۔امرتسر کے تعیناتی کے سات سالہ عرصہ میں آپ سیکرٹری تبلیغ اور تعلیم وتربیت تھے۔شہر کے طبقہ امراء اور سٹیشن پر آنے والے معززین اور راہنماؤں علی برادران گاندھی جی۔پنڈت موتی لال نہرو۔مسٹر گو کھلے اور مذہبی رہنماؤں سے آپ نے بالمشافہ مذہبی گفتگوئیں کیں۔آپ بڑے بڑے قومی اور مذہبی جلسوں میں شرکت کرتے تھے۔ایک دفعہ مسجد غزنویہ میں مخالفین کا جلسہ تھا اس میں شرکت خطرے سے خالی نہ تھی۔پہلے تو حضرت ڈاکٹر کرم الہی صاحب صدر جماعت جی نے آپ کو شرکت سے روک دیا۔لیکن آپ کا جوش دیکھ کر آپ کو اجازت دے دی اور حفاظت کے لئے ساتھ چند احباب بھجوائے۔کوچہ وکیلاں والی مسجد احمد یہ میں نمازیں اور جمعہ پڑھنے کا موقعہ بابو صاحب کو بھی ملتا تھا۔شہر میں کرایہ کے مکان میں آپ کا قیام تھا۔بابو صاحب کی تحریر کے مطابق اس وقت کے احمدی احباب یہ تھے۔مدفون بہشتی مقبره وفات ۱۰/۲۸ الفضل ۸/۲۸ ۴ از یر مدینه ایح) ازمیر