اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 1 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 1

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم عرض حال طبع اوّل سوانح مرتب کرنیکی ضرورت سید نا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے نبی کی بعثت کی خبر تمام صحف سابقہ میں دی گئی تھی۔آپ عین وقت پر مبعوث ہوئے اور آپ نے ایک انقلاب برپا کر کے ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین پیدا کر دی۔اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کے شجرہ طیبہ کو ہر موسم میں پھل لانے والا اور سدا بہار قرار دیا ہے اور اس کی تجدید کے لئے ہر صدی کے سر پر مجدد پیدا کرنے کا سلسلہ جاری فرمایا۔اس تعلق میں اخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کی پیشگوئی کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ کی خبر دی گئی تھی۔جو اپنے وقت پر مسیح موعود مہدی معہود سید نا حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات بابرکات کی بعثت سے پوری ہوئی۔اس وقت جبکہ آنحضرت صلعم کی پیشگوئی کے عین مطابق اسلام کا فقط نام ہی باقی رہ گیا تھا اور مساجد ویران ہو رہی تھیں اور نور ایمان کی جگہ کفر و عصیان نے گھیر لی تھی اور ہر بدی ایک تناور درخت بلکہ یوں کہیں کہ ایک تلاطم خیز سمندر کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ایسے تناور درختوں کا استیصال اور بحر ذخار کا مقابلہ سہل امر نہیں تھا اور ظاہر ہے کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ کی حالت پیدا ہونے پر قدرت کے دست غیب کی امداد ہی مشکل کشائی کرتی ہے اور انسانی تدابیر اوّل تو سوجھتی نہیں اگر سو جھیں بھی تو آسمانی پانی کے بغیر نتیجہ خیز نہیں ہوتیں۔سو ان حالات میں جب کہ ہر قوم پکار رہی تھی کہ کوئی مصلح ربانی آنا چاہئے تا ان کی ڈوبتی ہوئی نیا کو پار لگائے موعود اقوام عالم مبعوث ہوئے اور کشتی نوح ہماری نجات کے